گانجہ کی فروخت کیخلاف دھاوے ، 3 افراد گرفتار

   

کڑپہ ۔20 مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسٹر بی بالا سوامی ریڈی ڈی ایس پی کڑپہ نے یہاں اپنے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضلع ایس پی کڑپہ مسٹر وشواناتھ کی ہدایت پر شہر کے کئی علاقوں میں گانجے کی فروخت اور استعمال کے خلاف دھاوے کئے گئے ۔ انسپکٹر چنا چوک مسٹر بی رام کرشنا ریڈی نے کہا کہ چنا چوک علاقے میں گانجے کی فروخت پر خصوصی نگاہ رکھی گئی تھی ۔ باوثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر دھاوا کرکے 3 افراد کملا پورم مادھو ، شنکر اور منوج کو گرفتار کرکے اُن کی تحویل سے 1.600 کلوگانجے کو ضبط کیا گیا اور مقدمہ درج کرکے آج ریمانڈ کیا جائے گا ۔ بالا سوامی ریڈی نے کہا کہ اس سلسلے میں مزید تفتیش کی جارہی ہے ۔ انھوں نے انتباہ دیا کہ گانجہ کا استعمال فروخت اور ترسیل کرنے والوں کے خلاف NDPS قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی ۔ انھوں نے عوام سے خواہش کی کہ کہیں بھی گانجہ کی فروخت یا استعمال کرنے کی اطلاع مقامی پولیس اسٹیشن کو دیں یا فون نمبر 112 پر اطلاع دیں ۔ نام کو راز میں رکھا جائے گا ۔ بالا سوامی ریڈی نے کامیابی کے ساتھ گانجے کو ضبط کرنے پر انسپکٹر چنا چوک بی رام کرشنا ریڈی ، سب انسپکٹر پرتاب ریڈی اور عملے کے ارکان شیواکمار ، قادرحسین اور دیگر کی ستائش کی ۔
خانگی اسکولوں کی غیرمجاز سرگرمیوں کیخلاف اقدام کی ہدایت
نظام آباد۔20 مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع تعلیمی افسر نظام آباد پی اشوک نے شہر کے بعض خانگی اسکولوں کی مبینہ غیر مجاز سرگرمیوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کی ہے۔ ضلع تعلیمی افسر کی جانب سے جاری کردہ سرکاری احکامات کے مطابق ٹی ایس اے ضلع یونٹ نظام آباد کی جنرل سکریٹری جیوالا کی جانب سے بعض پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف شکایت پیش کی گئی تھی، جس میں ان اسکولوں کے غیر مجاز طریقہ سے چلائے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کارروائی میں منڈل ایجوکیشنل آفیسرس نظام آباد نارتھ اور ساؤتھ کو ہدایت دی کہ وہ معاملہ کی تفصیلی جانچ کریں اور ذمہ دار اداروں کے خلاف ضروری کارروائی عمل میں لائیں۔ ساتھ ہی شکایت کنندہ کو کی گئی کارروائی سے واقف کرانے اور تین دن کے اندر اندر مکمل رپورٹ ضلع تعلیمی افسر کو پیش کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ضلع تعلیمی افسر نے اپنے احکامات میں اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر مجاز طور پر چلائے جانے والے اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی ناگزیر ہوگی۔ اس کارروائی کے بعد خانگی تعلیمی اداروں میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔