دیہی علاقوں میں نشستوں کی تعداد کم ، تحفظات کی بدولت خواتین کو 50 حلقے مختص ہونے کے امکانات
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ملک بھر میں مردم شماری 2025 کی ابتداء میں شروع کر کے 2026 میں مکمل کرتے ہوئے آبادی کی بنیاد پر اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کی جارہی ہے ۔ اس تناظر میں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کا آغاز ہورہا ہے ۔ آندھرا پردیش تقسیم ریاست کے قانون کی دفعہ 26(1) کے مطابق تلگو ریاستوں میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کے معاملے کو شامل کیا گیا ہے ۔ لیکن اس پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ اب ملک بھر میں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کا آغاز ہورہا ہے ۔ جس کے نتیجے میں ریاست میں اسمبلی حلقوں کی تعداد 119 سے بڑھ کر 153 تک پہونچ جائے گی ۔ یعنی 34 نئے اسمبلی حلقوں کا اضافہ ہورہا ہے ۔ فی الحال گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 24 اسمبلی حلقے ہیں ۔ جس میں مزید 26 اسمبلی حلقوں کا اضافہ کے ساتھ اس کی تعداد 50 تک پہونچ جانے کے قوی امکانات ہیں ۔ حیدرآباد میں آبادی کا تناسب بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی اور آبادی کے تناسب سے انجام دی جائے گی جس کے پیش نظر ریاست میں 34 اسمبلی حلقوں کا جہاں اضافہ ہورہا ہے وہیں گریٹر حیدرآباد میں ہی 26 اسمبلی حلقوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اس طرح دیہی علاقوں کے تناسب کا جائزہ لیں تو ہر متحدہ ضلع میں ایک کے لحاظ سے 8 اسمبلی حلقوں کے اضافہ ہونے کے امکانات ہیں ۔ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے ساتھ خواتین تحفظات پر عمل کرتے ہوئے خواتین کو 33 فیصد نشستیں مختص کی جارہی ہیں ۔ ویمن ریزرویشن کا بل گذشتہ پارلیمنٹ اجلاس میں منظور ہونے کے بعد قانونی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ اس بل کی منظوری کے بعد منعقد ہونے والے مردم شماری کے تناسب سے اسمبلی حلقوں کی از سر حد بندی کے بعد خواتین تحفظات پر عمل کرنے کا قانون میں تذکرہ کیا گیا ہے ۔ اسمبلی حلقوں کی تعداد 153 تک پہونچنے پر ان میں تقریبا 50 نشستیں خواتین کو مختص ہونے کے امکانات ہیں ۔ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے بعد گریٹر حیدرآباد اور خواتین کی نشستوں کی اہمیت بڑھ جائے گی جو پارٹی گریٹر حیدرآباد میں زیادہ حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ اُس جماعت کو اقتدار حاصل ہونے کے امکانات زیادہ بڑھ جائیں گے ۔۔ 2