گنڈی پیٹ کا پانی، یہ بہت خاص ہوتا ہے

   

حیدرآباد : حیدرآباد میں گنڈی پیٹ پراجکٹ کی صد سالہ تقریب 8 مئی کو منائی جائے گی۔ یہ پراجکٹ 60 لاکھ روپئے کے تخمینہ کے ساتھ شروع ہوا تھا اور اس کے بعد ان تمام برسوں میں شہر میں روزمرہ زندگی کا حصہ بنارہا ہے۔ عثمان ساگر جو گنڈی پیٹ کے نام سے مشہور ہے، محض ایک ذخیرہ آب ہی نہیں ہے جو 100 سال سے شہر کی پیاس بجھا رہا ہے بلکہ شہر کے قریب ایک بہت سیاحتی مقام بھی ہے جہاں لوگ تفریح کیلئے آتے ہیں۔ 8 مئی کو اس پراجکٹ کو مکمل ہوئے ایک صدی ہوگی۔ اس ذخیرہ آب کو حیدرآباد کیلئے پانی سربراہ کرنے کی ایک نئی اسکیم کے طور پر اور موسیٰ ندی میں سیلاب کو روکنے کیلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ 1908 میں آئی تباہ کن طغیانی کے بعد اس وقت کے نظام نے انجینئرنگ کے ماہر ایم وسویشورئیا کو اس کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے کہا تھا۔ وسویشورئیا نے 1.28 کروڑ روپئے کی تخمینہ لاگت پر موسیٰ ندی اور عیسیٰ ندی پر دو ذخائر آب تعمیر کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کی منظوری نظام ششم میر محبوب علی خان نے 5 مارچ 1910ء کو دی چونکہ اس وقت حیدرآباد اور سکندرآباد کو پانی کی سربراہی ناکافی تھی اس لئے ساتویں نظام میر عثمان علی خان نے 15 جولائی 1912 کو فرمان (آرڈر) کے ذریعہ پہلے موسیٰ ندی پر ذخیرہ آب کی تعمیر شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایک ماہر ارون کے مطابق اس پراجکٹ کی تخمینی لاگت 57.35 لاکھ روپئے تھی۔ قیمتوں میں کمی بیشی کو ذہن میں رکھتے ہوئے نظام میر عثمان علی خان نے 11 نومبر 1915 کو ایک فرمان کے ذریعہ اس پراجکٹ کیلئے 60 لاکھ روپئے منظور کئے جس کے ساتھ 15 جولائی 1916 کو اس کے کام شروع ہوئے چونکہ ارون یوروپ روانہ ہوگئے تھے اس لئے اس پراجکٹ کی ذمہ داری ایک اور شخص کو دی گئی۔ ریکارڈس میں جس کی شناخت اے ڈبلیو اسٹون برج کی حیثیت سے کی گئی ہے، ریکارڈس کے مطابق یہ پراجکٹ 8 مئی 1921 کو مکمل ہوا۔