گھروں پر بلڈوزر چلانا سنگباری کی نئی سزا

   

مدھیہ پردیش میں کھرگون تشددکے ایک روز بعد 50مقامات پر کارروائی

کھرگون /بھوپال : مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون میں گذشتہ روز رام نومی یاترا کے دوران بعض شرپسندوں کی جانب سے پتھراؤ کے واقعات پیش آئے ۔ اس واقعہ کے بعد پولیس حرکت میں آچکی ہے ۔ ابھی تک پولیس نے 84 افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔نہ صرف گرفتاریاں بلکہ زائد از 50مقامات پر سنگباری کی نئی سزا دیکھنے میں آئی ۔ اقلیتی فرقہ کے 50سے زیادہ مکانات پر بلڈوزر چلائے گئے ۔ تاہم افواہیں پھیلانے کی پاداش میں تین سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا اور ایک کی معطلی عمل میں آئی ہے ۔ کمشنر پون شرما نے پیر کو یہ معلومات فراہم کئے ۔ بتایا گیا کہ رام نومی جلوس پر اقلیتی فرقہ کی طرف سے سنگباری کی گئی ، حالانکہ اس کی تصدیق باقی ہے ۔ کانگریس نے محض پتھراؤ کے جواب میں سنگباری کرنے والے مبینہ ملزمین کے گھرو ں پر بلڈوزر چلانے کی کارروائی پر شدید تنقید کی ہے ۔ سینئر لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ یہ سراسر ہٹلرازم ہے ۔ دریں اثناء چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ کسی فسادی کو بخشا نہیں جائے گا ۔ جو بھی نقصان ہوا ہے فسادیوں سے وصول کیا جائے گا ۔ مدھیہ پردیش کی سرزمین پر فسادیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ فسادیوں سے نہ صرف سرکاری بلکہ خانگی املاک بھی برآمد کی جائیں گی ۔ فسادیوں کو سخت ترین سزا دی جائے گی جو عبرت ہوگی ۔