وطن عزیز میں کبھی مسلم ووٹ بنک نہیں تھا۔ نہ مسلمان کسی حکومت کو تبدیل کرسکتے ہیں
حیدرآباد ۔ 14 مئی (سیاست نیوز) صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسدالدین اویسی نے کہا کہ بابری مسجد کھوئی ہے۔ گیان واپی مسجد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ہے۔ گیان واپی مسجد تھی ہے اور رہے گی۔ احمدآباد گجرات میں ایک عیدملاپ تقریب سے خطاب میں اسدالدین اویسی نے کہا کہ مکاری، عیاری اور انصاف کا قتل کرتے ہوئے بابری مسجد ہم سے چھین لی گئی۔ اب ہم دوسری کوئی اور مسجد چھیننے نہیں دیں گے۔ انہوں نے عدلیہ کے ایک فیصلہ کی رولنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1947ء میں جو مسجد، مندر تھی وہ برقرار رہے گی۔ اس سے چھیڑچھاڑ کرنے یا ڈھانچہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف تین سال کی سزاء سنانے کی گنجائش موجود ہے۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ وطن عزیز میں مسلمان کسی بھی حکومت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ مسلم ووٹ بنک کے معاملے میں غلط فہمی پیدا کی گئی ہے۔ مسلمانوں کا ووٹ بنک ہے۔ دلفریب باتوں سے مسلمانوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ مسلمانوں کا کبھی ووٹ بنک تھا نہ ہے اور نہیں رہے گا ہاں البتہ اکثریتی طبقہ کا ووٹ بنک تھا ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔ اگر ہم کسی بھی حکومت کو تبدیل کرسکتے تو پارلیمنٹ میں مسلمان ارکان کی تعداد کیوں گھٹ رہی ہے۔ اگر مسلمان حکومت تبدیل کرسکتے تو سرزمین گجرات میں آخری مرتبہ مسلمان کب رکن پارلیمنٹ منتخب ہوا تھا۔ اب کیوں منتخب نہیں ہورہا ہے۔ میری بات سے اختلاف کرنے کا ہر کسی کو حق ہے۔ میں بحیثیت سیاسی طالب علم علماء کی موجودگی میں یہ کہہ رہا ہوں جن کے سینوں میں اللہ کا کلام پاک موجود ہے، میں جو دیکھ رہا ہوں اور سیکھ رہا ہوں وہی کہہ رہا ہوں۔ بابری مسجد کے بعد اب گیان واپی مسجد کا مسئلہ عدالت کو پہنچ چکا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت مہم چلارہی ہیں اس میں کانگریس، عام آدمی پارٹی اور سماج وادی پارٹی بھی برابر کی شامل ہے۔ن