گیانیش کمار کے معاملے پراپوزیشن کا مطالبہ غلط نہیں: غلام نبی آزاد

   

سرینگر ۔27؍ستمبر ( ایجنسیز )اننت ناگ میں ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے صدر غلام نبی آزاد نے الیکشن کمیشن کو لے کر جاری تنازعہ پر ردعمل کا اظہار کیا اورکہا کہ گزشتہ چند سالوں سے انتخابات کو لیکر الیکشن کمیشن پر سوال اٹھتے رہے ہیں اور اس پر انگلیاں بھی اٹھائی جاتی رہی ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت نہیں تھے۔ ان کے مطابق اب صورتحال مختلف ہے کیونکہ 2 انتخابی کمشنرز نے خود چیف الیکشن کمشنر کے سامنے کئی بار اپنی ناراضگی ظاہر کیے جانے کی بات کہی ہے۔ہفتہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار 2 الیکشن کمشنرز نے خود چیف الیکشن کمشنر کے سامنے ایک درجن سے زیادہ بار سوال اٹھائے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں کچھ غلط تو نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق دونوں انتخابی کمشنرز نے اپنی تشویش سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا، لیکن انہوں نے ان اعتراضات کو قبول نہیں کیا اور اپنی مرضی کے مطابق کام کیا۔ ساتھ ہی آزاد نے کہا کہ اب اس پورے معاملے کو لیکر یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن ناموں کو ووٹر فہرست سے ہٹائے جانے کے بعد انتخابات کرائے گئے کیا ایسے انتخابات کو جائز مانا جانا چاہیے یا پھر دوبارہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔ڈی پی اے پی صدر نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اپوزیشن کی جانب سے دوبارہ انتخابات کرانے کے مطالبے کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 3 میں سے 2 انتخابی کمشنرز کسی معاملے کو لے کر سوال اٹھا رہے ہیں تو لوگوں کو ان کی بات پر بھروسہ کرنا چاہیے اور معاملے میں کارروائی کی جانی چاہیے۔