چار مسلم وکلاء شامل، حکومت تلنگانہ سے احکامات کی اجرائی
حیدرآباد۔11۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ہائی کورٹ میں 59 اسسٹنٹ گورنمنٹ پلیڈر س کے تقررات کے احکام جاری کئے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات میں 59 اے جی پی میں جملہ 4 مسلم وکلاء کو شامل کیا گیا ہے جن میں دو خواتین اور دو مرد وکلاء شامل ہیں۔ جن مسلم وکلاء کو اے جی پی بنایا گیا ہے ان میں محترمہ نور ثمینہ ‘ محترمہ روحی نبیلا‘ جناب محمد حبیب الدین ‘ جناب محمد نوید خان شامل ہیں۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کے بعد محکمہ لاء کی جانب سے ان اے جی پی کو جو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں ان میں محترمہ نور ثمینہ ایڈوکیٹ کو اسپیشل گورنمنٹ پلیڈر مسٹر ایم کرشنا کے اے جی پی کی ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ محترمہ روحی نبیلا کو پنچایت راج و دیہی ترقیاتی کی گورنمنٹ پلیڈر محترمہ شاذیہ پروین کے اے جی پی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسی طرح جناب محمد حبیب الدین کو محکمہ مال کے گورنمنٹ پلیڈر ڈی وی چلپتی راؤ کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اورجناب محمد نوید خان کو محکمہ انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کے جی پی جناب محمد حسین کے ساتھ مربوط کیاگیا ہے۔حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں جی او ایم آر ٹی نمبر 427 کی اجرائی عمل میں لاتے ہوئے ان اسسٹنٹ گورنمنٹ پلیڈرس کے تقررات کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔3