حکومت کو 850 ایکر اراضی واپس مل گئی
حیدرآباد ۔ 9 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ کی جانب سے اے پی گورنمنٹ پراپرٹی (پریزرویشن پروٹیکشن اینڈ ریزمیشن) ایکٹ 2007 کو برقرار رکھنے اور 2003 میں سابق تلگودیشم حکومت اور ایک خانگی کمپنی کے درمیان ہوئی ایک یادداشت مفاہمت کو کالعدم کرنے کے بعد اب حکومت تلنگانہ حیدرآباد کے مضافات میں کروڑہا روپئے مالیت کی 850 ایکر سے زائد اراضی کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا اور یہ اراضی پھر سے حکومت کو واپس مل گئی۔ 2003ء میں این چندرا بابو نائیڈو حکومت نے آئی ایم جی اکیڈیمیز بھارتا (IMGB) پرائیویٹ لمیٹیڈ کے ساتھ ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے تھے جو بہت کم قیمت پر اس کمپنی کو اراضی فراہم کرنے سے متعلق تھا تاکہ عالمی معیار کے اسپورٹس گراؤنڈس بنائے جائیں اور 2020ء اولمپکس کیلئے اتھیلیٹس کو ٹریننگ دی جائے۔ اس میں 400 ایکر اراضی یونیورسٹی آف حیدرآباد، گچی باؤلی سے لی گئی اور اسے 50,000 روپئے فی ایکر فروخت کیا گیا اور اس کا رجسٹریشن IMGB کے حق میں کیا گیا لیکن شمس آباد کے قریب مامڑی پلی میں 25 ہزار فی ایکر کے حساب سے ایک اور 450 ایکر اراضی کی فروخت کا ان کے نام پر رجسٹریشن نہیں کیا گیا۔ اس وقت ایک ایکر زمین کی قیمت مبینہ طور پر 13 لاکھ روپئے تھی۔ آئی ایم جی پی کا قیام 5 لاکھ روپئے سرمایہ کے ساتھ 5 اگست 2003ء کو ہوا اور اسی مہینہ میں اس یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے گئے۔ اس کے تقریباً 6 ماہ بعد، 10 فبروری 2004ء کو بیع نامہ عمل میں آیا اور چندرا بابو نائیڈو نے اس پراجکٹ کیلئے سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس کے بعد کانگریس برسراقتدار آئی اور آندھراپردیش گورنمنٹ پراپرٹی (پریزرویشن، پروٹیکشن اینڈ ریزمیشن) ایکٹ 2007ء کو منظور کیا جس میں اس یادداشت مفاہمت کے تحت حاصل ہونے والے فوائد کو منسوخ کردیا گیا۔ تب آئی ایم جی بی نے 2006ء میں ہائیکورٹ میں ایک رٹ درخواست داخل کی تھی۔ جمعرات کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس جے انیل کمار پر مشتمل ایک بنچ نے اس رٹ درخواست کو مسترد کردیا اور 2003ء میں کی گئی اس یادداشت مفاہمت کو کالعدم قرار دیا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اس یادداشت مفاہمت پر دستخط کابینہ کی منظوری کے بغیر کئے گئے تھے اور اس وقت اراضی کی قیمت 13 لاکھ روپئے فی ایکر تھی لیکن اسے کوئی وجہ بتائے بغیر آئی ایم جی بی کو 50 ہزار روپئے فی ایکر فروخت کیا گیا۔ اس بنچ نے اس الاٹمنٹ کی سی پی آئی تحقیقات پر زور دینے والی مفاد عامہ کی ایک درخواست کی بھی سماعت کی اور سرکاری وکیل سے پوچھا ’’کیا آپ سی بی آئی تحقیقات کیلئے کی جانے والی درخواست کی مخالفت کرتے ہیں‘‘ اور انہیں اس سلسلہ میں پیر کو وضاحت کرنے کی ہدایت دی۔