ہاسٹلس طلبہ کے ڈائیٹ اور کاسمیٹک چارجس میں 40 فیصد کا اضافہ

   

چیف منسٹر ریونت ریڈی کی منظوری ، ریاست کے 7,65,705 طلبہ کو فائدہ ہوگا
حیدرآباد ۔ 31 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : حکومت نے سوشیل ویلفیر ہاسٹلس اور ریسڈنشیل تعلیمی اداروں کے طلبہ کے ڈائیٹ چارجس میں 40 فیصد تک اضافہ کردیا ہے جس میں بہتر خوراک اور ذاتی حفظان صحت کے لیے کاسمیٹک چارجس میں بھی اضافہ شامل ہے ۔ اس فیصلے سے تقریبا 7,65,705 طلبہ کو فائدہ ہوگا ۔ حکومت نے سوشیل ویلفیر ڈپارٹمنٹ کے ڈائیٹ اور کاسمیٹک چارجس میں اضافہ کرنے کے لیے محکمہ بی سی ویلفیر ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری بی وینکٹیشم کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی کمیٹی نے ایک ہفتہ قبل اپنی رپورٹ ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارکا کو پیش کردی تھی ۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں حکومت سے سفارش کی تھی طلبہ کی غذا اور صحت سے متعلق ان دو بلز کو ہر ماہ ادا کرنے کے لیے اس کو گرین چینل میں شامل کیا جائے ۔ اس رپورٹ کا جائزہ لینے والے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ان تجاویز کو منظوری دی ۔ ڈائیٹ اور کاسمیٹک چارجس میں اضافہ کرنے کی فائیل پر دستخط کردیا ہے ۔ احکامات کی اجرائی کے بعد اس پر عمل آوری کا آغاز ہوجائے گا ۔ سوشیل ویلفیر اور ریسیڈنشیل ہاسٹلس میں آخری مرتبہ ڈائیٹ چارجس میں 2017 میں اضافہ ہوا تھا ۔ جس کے بعد اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ چند اشیاء کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ڈائیٹ چارجس میں اضافہ کرنے کے بعد تیسری تا ساتویں جماعت کے طلبہ کو روزانہ 44.33 روپئے 8 تا 10 ویں جماعت کے طلبہ کو روزانہ 51.33 روپئے انٹر اور اس سے زیادہ کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو روزانہ 70 روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ کاسمیٹک چارجس میں 16 سال بعد اضافہ کرنے کی چیف منسٹر نے منظوری دی ہے ۔۔ 2