واشنگٹن: نیویارک کی ایک عدالت نے نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہش منی کیس میں سزا کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔مین ہٹن عدالت کے جج جان مرچن کے فیصلے نے آئندہ ماہ ٹرمپ کی دوسری مدت کیلئے صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل مشکل میں اضافہ کر دیا ہے۔امریکہ کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ صدر کو سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران قانونی چارہ جوئی سے محدود استثنا حاصل ہے۔ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس کے دوران پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ نومنتخب صدر کو گنجائش دینی چاہیے۔ لیکن اْن کا اصرار تھا کہ ٹرمپ کی سزا برقرار رہنی چاہیے۔ہش منی کیس میں درخواست مسترد ہونے پر ٹرمپ کے وکلا نے فوری طور پر اپنا کوئی مؤقف نہیں دیا ہے۔واضح رہیکہ رواں برس مئی میں جیوری نے ٹرمپ کو 2016 میں سابق پورن اسٹار اسٹورمی ڈینئل کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر رقم کی ادائیگی کے معاملات سے متعلق 34 مختلف الزامات میں فردِ جرم عائد کی تھی۔ ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران پورن اسٹار کو جنسی تعلقات پر خاموشی اختیار کرنے پر رقم کی ادائیگی کی تھی۔اسٹورمی ڈینئل کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔ تاہم ٹرمپ اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔مذکورہ کیس میں جیوری کے فیصلے کے ایک ماہ بعد سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم نامے میں قرار دیا تھا کہ سابق صدور کو عدالتی کارروائی سے محدود استثنا حاصل ہے۔اْس وقت ٹرمپ کے وکلا نے سپریم کورٹ میں دلائل دیے تھے کہ ہش منی کیس کی جیوری نے بعض نامناسب شواہد حاصل کیے جیسے ٹرمپ کا صدارتی مالیاتی گوشوارہ، وائٹ ہاؤس کے بعض مشیروں سے پوچھ گچھ اور اس وقت کی سوشل میڈیا پوسٹ جب ٹرمپ صدر تھے۔البتہ پیر کو اپنے فیصلے میں جج مرچن نے ٹرمپ کے اْن کئی دعووں کو مسترد کر دیا کہ پراسیکیوٹرز کے شواہد آفیشل ایکٹ کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں صدارتی استثنا حاصل ہے۔41 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں جج مرچن نے کہا کہ پراسیکیوٹرز نے اس بات پر دلائل دیے کہ ٹرمپ کا اقدام خالصتاً ذاتی حیثیت میں تھا نہ کہ بطور صدر کوئی سرکاری کام تھا۔