ریاست میں مسلسل بارش کی وجہ سے آئی فلو، اسہال، ٹائیفائڈ اور یرقان کے متعدد کیسیز
شملہ: ہماچل پردیش میں مقامی لوگ ابھی تک قدرتی آفات کے قہر سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کرپائے کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ وزیر صحت ڈاکٹر دھنی رام شانڈل نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست میں مسلسل بارش سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے ۔ محکمہ صحت کے لیے یہ ایک نیا چیلنج ہے ۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران، ریاست میں آئی فلو کے 2740، اسہال کے 322، تیز بخار ٹائیفائیڈ کے 59، بخار یا اسکرب ٹائفس کے 34 اور یرقان کے پانچ معاملے درج ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیر پور ضلع میں ڈائریا کے 160 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ریاست میں پانی سے پھیلنے والی سب سے مہلک بیماری اسکرب ٹائفس ہے ، جو 34 مریضوں میں پائی گئی ہے اور بڑے اسپتالوں میں کئی اور کیسز بڑھ رہے ہیں کیونکہ اس کے لیے فوری طور پر اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ریاستی صحت کے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کے دوران شانڈل نے عہدیداروں کو اس وباء سے جنگی بنیادوں پر نمٹنے کی ہدایت دی تاکہ جانیں بچائی جاسکیں۔ اس کے علاوہ پرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سی)، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز (سی ایچ سی) اور ضلعی سطح کے اسپتالوں کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ان بیماریوں سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات کریں۔ شانڈل نے کہا کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی میڈیسن سے متعلق معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے ، تاکہ لوگ بیدار ہو سکیں۔ وزیر صحت نے شعبہ طب کو ہدایت کی کہ وہ اعلیٰ تربیت یافتہ طبی عملے کی تعیناتی اور فوری طبی امداد فراہم کرکے ہنگامی صورتحال سے نمٹیں۔ محکمہ صحت گاؤں کی سطح پر ان بیماریوں کے بارے میں آگاہی مہم چلانے جا رہا ہے ، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ بارش کے موسم میں اس کے پھیلنے سے گھر پر کیسے نمٹا جا سکتا ہے اور خود کو کیسے بچایا جا سکتا ہے ۔ ریاست میں پچھلے کچھ برسوں سے ڈینگو کے کئی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو اس مانسون سیزن میں اب تک رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔