شہر کی پُرامن فضاء کو مکدر ہونے نہیں دیا جائے: کمشنر سٹی پولیس سی وی آنند
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ہندو جنا جاگرتی سمیتی کے زیر اہتمام شہر حیدرآباد میں ’’ حلال جہاد ؟ ‘‘ کے عنوان پر کتاب کی رسم اجرائی تقریب منعقد ہونے والی تھی۔ جس کو پولیس کی اجازت نہ ملنے پر منسوخ کردیا گیا ہے۔ روز نامہ سیاست میں دو دن قبل اس پروگرام کے متعلق خبر شائع کی گئی تھی جس کے بعد مختلف تنظیموں اور اداروں نے کوتوال شہر بلدہ مسٹر سی وی آنند سے نمائندگی کرتے ہوئے فرقہ پرستی پر مشتمل اس پروگرام کو منسوخ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ کمشنر پولیس حیدرآباد نے ناراضگی کا اظہار کرنے والی تنظیموں اور ادارو ںکو یقین دلایا تھا کہ شہر میں اس طرح کے پروگرام کے انعقاد کو پولیس نے اجازت نہیں دی ہے اور پولیس ایسے کسی بھی پروگرام کو اجازت نہیں دے گی جو شہر بلکہ ریاست کی پرامن فضاء کو مکدر کرنے کا سبب بنے گا۔ تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک نے بھی کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر سی وی آنند سے اس خصوص میں نمائندگی کی تھی جس پر مسٹر سی وی آنند نے انہیں بھروسہ دلایا تھا کہ ہندو جنا جاگرتی سمیتی کے اس پروگرام کو منعقد کرنے کی پولیس نے اجازت نہیں دی ہے اور یہ پروگرام شہر میں نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ ہندو جنا جاگرتی سمیتی کا تعلق ریاست کرناٹک سے ہے جہاں پر اس تنظیم نے ’’حلال جہاد ‘‘ کے نام پر سماج میں نفرت پھیلاتے ہوئے ریاست کرناٹک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے۔ کرناٹک میں منادر کے پاس مسلمانوں کی دکانوں کے خلاف تحریک چلانے کے علاوہ ہندو تہواروں کے موقع پر مسلمانوں کی دکانوں سے خریدی کرنے سے روکنے پر جو تحریکیں ریاست کرناٹک میں چلائی گئی ہیں ان ساری تحریکوں کی محرک یہی ایک تنظیم ہندو جنا جاگرتی ہے۔ ریاستی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کی تنظیموں اور اداروں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور شہر کے علاوہ ریاست تلنگانہ کی فضاء کو مکدر ہونے سے محفوظ رکھنے کے اقدامات اٹھائیں۔ب