ہندوستان مذہبی آزادی کااپنا عہد پورا کرے

   

مخصوص فکرمندی والے 12 نامزد ممالک میں ہندوستان شامل ، مذہبی رواداری پر امریکہ کی توجہ

واشنگٹن : امریکہ نے ہندوستان کے بشمول 12 ملکوں کو مذہبی آزادی اور سماج میں رواداری کے موضوع پر زور دیا ہیکہ اپنے عہد کو پورا کریں اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرے۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے گزشتہ دنوں چین، پاکستان اور میانمار کے ساتھ ہندوستان کو بھی مخصوص فکرمندی والے 12 ملکوں میں نامزد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ تمام ممالک میں مذہبی آزادی کی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیتا ہے اور جہاں کہیں ضرورت محسوس ہو خصوصی توجہ دلاتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے گزشتہ روز میڈیا کو اس بارے میں بتایا کہ بائیڈن حکومت کی طرف سے حکومت ہند پر بدستور زور دیا جاتا رہے گا کہ وہ تمام شہریوں کیلئے مذہبی آزادی کے تحفظ سے متعلق اپنے عہد کو پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ باقاعدگی سے سرکاری سطح پر مذہبی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کی حیثیت سے امریکہ اور ہندوستان اس معاملہ میں دوسروں کیلئے مثال بننے کے پابند عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور سماج میں مذہبی رواداری کی برقراری ایک مسلسل پراجکٹ کی مانند ہے۔ پرائس نے بتایا کہ سکریٹری آف اسٹیٹ بلنکن پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ مذہبی آزادی اور اظہارخیال کی آزادی جیسے انسانی حقوق کے معاملہ میں امریکہ کوئی مفاہمت نہیں کرے گا۔ اس معاملہ میں امریکہ نے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ رابطہ قائم کر رکھا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ پرائس نے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان مضبوط جمہوریتیں ہیں اور مذہبی آزادی کے معاملہ میں مثالی ممالک بننا چاہتے ہیں۔ تاہم بعض واقعات کی وجہ سے ہندوستان کا ٹریک ریکارڈ متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے خصوصی نظر رکھے جانے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت ہند کے ساتھ تمام سطحوں پر رابطہ اور تال میل ہوتا ہے اور ہم ہندوستان کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق امور پر اپنا ریکارڈ صاف رکھے۔ ہندوستان نے ماضی میں بیرونی حکومتوں کی جانب سے اس طرح کی تنقیدوں کو مسترد کیا ہے۔ تاہم حکومت ہند اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتی کہ خود اندرون ملک سیاسی اور غیرسیاسی سطح پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے۔