نئی دہلی : تعلیم ،ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کے مرکزی وزیر دھرمیندرپردھان نے کہاکہ علم پر مبنی ایک تہذیب کے طور پر ہندوستان کی سرشت میں صلاحیتوں کا فطری ذخیرہ پنہاں رہا ہے ۔ اپنی مکمل تاریخ میں، ہندوستان نے ریاضی، علم نجوم، طب ، فلسفے اور ادب سمیت علم کے مختلف النوع شعبوںمیں اہم تعاون فراہم کیے ہیں۔ اعداد کی تھیوری اور قدیم ہندوستانی ماہرین ریاضیات کے تجزیے اب بھی جدید تحقیق پر اپنے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ علم پر مبنی تہذیب کے طور پر اپنے ہم عصر تعلیمی، سائنٹفک اور ثقافتی منظرنامے کو متاثر کر رہی ہے اور اسے عالمی فلاح و بہبود میں ایک اہم تعاون کار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ پردھان نے کہاکہ ہندوستان کی مکمل G-20 صدارت کے مرحلے میں خواہ یہ ورکنگ گروپ ہوں یا وزارتی اجتماع- فزوں تر عالمی خیرو عافیت تمام تر تبادلہ خیالات اور مباحثوں میں ارتباط کا اہم ذریعہ رہی ہے ۔ G-20 کا ایک کرہ ارض ایک کنبہ ایک مستقبل کا موضوع قدیم وسودھیو کٹمبکم کی اقدار میں پنہاں ہے جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہندوستان کی ترقی اور نمو صرف اس کے اپنے عوام کے لیے نہیں بلکہ عالمی فلاح و بہبود کے لیے ہے جسے ہم وشو کلیان کا نام دیتے ہیں یعنی پوری دنیا کی فلاح و بہبود۔ مرکزی وزیر نے اس اعتماد کا اظہار کیاکہ پوری دنیا نے ہندوستان کی معیشت میں مضمر قوت اور لچک کا لوہا مان لیا ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ہندوستان کی شناخت عالمی معیشت میں ایک روشن تر مقام کے طور پر کی ہے ۔ ہندوستان کی اجتماعی اقتصادی بنیادیں بہت مضبوط ہیں۔ عالمی مخالف صورتحال کے باوجود ہندوستان دنیا کی سب سے تیز رفتار نمو پذیر معیشتوں میں سے ایک ہے ۔ ہندوستان اب پانچویں وسیع تر معیشت ہے اور اس میں بہت مختصر مدت میں تیسری وسیع تر معیشت بن جانے کے مضمرات موجود ہیں۔ انھوں نے کہاکہ علم اور ہنرمندی کے توسط سے انسانی سرمائے میں اضافہ اور بہم رسانی ہندوستان کے مضمرات کو عملی شکل دینے کی کلید ہے ۔ تعلیم ماں کی شکل میں وہ بنیاد یا عنصر ہے جو نمو کے محرکات کو سمت عطا کرے گا اور برقرار رکھے گا۔
تعلیم وہ قوت مادری ہے جو تمام شہریوں کو بااختیار بنائے گی۔
نئی تعلیمی پالیسی کے تعلق سے انھوں نے کہا کہ ایک جامع قومی تعلیمی پالیسی 2020 اس مقصد سے وضع کی گئی ہے کہ ہندوستان کی تعلیم کو ہندوستان میں مبنی بر شمولیت اور جامع شکل دی جا سکے جس کی جڑیں مستقبل سے مربوط ہوں اور یہ اپنے آپ میں ترقی پسند اور دور اندیشی کی حامل ہو۔
مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے جس کا مقصد مضبوط نظریاتی تفہیم کو یقینی بنانا اور شفافیت لانا ہے ، وہ این ای پی میں بنیادی عنصر کے طور پر کارفرما ہے ۔مادری زبان میں تعلیم نہ صرف یہ کہ رابطہ زبانوں کے ساتھ رشتے استوار کرے گی بلکہ ان میں اضافہ بھی کرے گی۔ اس کے ذریعہ ان لوگوں سمیت جو نسبتاً کم مراعات کے حامل ہیں، عام صورتحال میں زندگی گزارتے ہیں اور غیر ضروری اعتراضات نہیں کرتے ، طلبا کے تعلیمی راستے کو آسان بنائے گی۔