نئی دہلی، 5اگست (یواین آئی) اپوزیشن کے زبردست ہنگامہ کے باعث آج پارلیمنٹ کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ہنگامہ کرنے لگے ۔ اس پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہاکہ میں درخواست کرتا ہوں کہ وقفہ سوالات اہم ہوتا ہے ۔ وقفہ سوالات چلانے میں تعاون کریں۔ ایوان کے باہر یا اندر نعرے بازی کرنا جمہوریت کیلئے درست نہیں ہے ۔ جمہوری طریقے سے بحث کریں۔ منصوبہ بند طریقے سے ایوان میں رکاوٹ ڈالنا درست نہیں ہے ۔اسپیکر کی درخواست کا کوئی اثر نہیں ہوا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ارکان نے اس ہفتے مسلسل تیسرے دن آج بھی رام مندر میں چڑھاوا چوری اور دیگر امور کو لے کر زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی اور وقفہ صفر کی کارروائی مکمل نہ ہو سکی۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کے میز پر رکھے جانے کے بعد جیسے ہی کارروائی شروع کی، اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر زور زور سے بولنے لگے ۔ چیئرمین نے ارکان سے پرسکون رہنے اور اپنی نشستوں پر لوٹنے کی اپیل کرتے ہوئے عوامی اہمیت کے موضوعات رکھنے کیلئے ارکان کے نام پکارے ۔اپوزیشن ارکان نے اس دوران ہنگامہ جاری رکھا اور وہ نعرے بازی کے ساتھ ساتھ پلے کارڈ دکھا رہے تھے ۔ چیئرمین نے کہا کہ ایوان میں پلے کارڈ نہیں دکھائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ارکان اپنی نشستوں پر خاموشی سے بیٹھ کر کارروائی چلنے دیں۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ وہ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے ۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کو انہوں نے درمیان میں خبردار بھی کیا اور کہا کہ ان کے خلاف سخت قدم اٹھایا جا سکتا ہے ۔ اپوزیشن ارکان پر ان کی اپیل کا اثر نہ ہوتے دیکھ کر چیئرمین نے ایوان کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی۔