یمن میں 10سال سے جاری تنازعہ کی وجہ سے 24لاکھ بچے اسکول چھوڑ چکے

   

واشنگٹن: اقوام متحدہ سے منسلک بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ یمن میں دس سال سے جاری تنازعے کی وجہ سے 24 لاکھ بچے سکول چھوڑ چکے ہیں۔انہوں نے عالمی یوم اطفال کے موقع پر اپنی رپورٹ میں جو کہ ہر سال 20 نومبر کو منایا جاتا ہے کے موقعے پر مزید کہا کہ یمن میں بڑھتے ہوئے تنازعے کی وجہ سے 24 لاکھ سے زائد بچے متاثر ہوئے ہیں جن میں تقریباً ایک ملین بچے سکول چھوڑ چکے ہیں”۔تنظیم نے کہا کہ اقوام متحدہ کا تخمینہ “اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازعے کے آغاز سے لے کر اب تک 2,000 سے زیادہ اسکولوں کو نقصان پہنچا یا دوبارہ تباہ کیا گیا ہے ۔ جس سے اسکول جانے کی عمر کے 80 لاکھ بچوں کو تعلیمی نظام چھوڑنے کا خطرہ لاحق ہے ، جن میں 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر بچے بھی شامل ہیں”۔بین الاقوامی نقل مکانی نے تنازعات سے متاثرہ کمزور کمیونٹیز میں تعلیم کے حق کی حمایت کرنے کے اپنے عزم کی توثیق کی۔ اس نے مآرب میں 24 سکولوں کے لیے 32 کلاس رومز اور عارضی تعلیمی جگہوں کی بحالی اور تعمیر کی ہے ، جس سے 28,000 سے زائد طلباء مستفید ہوئے ۔اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے تصدیق کی ہے کہ یمن میں رواں سال کے دوران تقریباً دس ملین بچے انسانی امداد اور تحفظ کی خدمات کے محتاج ہیاقوام متحدہ کے دفتر ‘اوچا’ نے ‘ایکس’ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ یمن میں 9.8 ملین بچوں کو رواں سال 2024 کے دوران کسی نہ کسی شکل میں انسانی امداد اور فوری تحفظ کی ضرورت ہے ۔