نئی دہلی، 17 ستمبر (یو این آئی) حکومت نے یو پی آئی ادائیگی پر فیس کو لے کر سیاسی تنازعہ کے درمیان ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ دکانوں پر کارڈ سے ادائیگی پر ایم ڈی آر (تاجر رعایتی شرح) بیرونی دباؤ میں نافذ کیا گیا ہے ۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایم ڈی آر کا نظام اس مقصد سے نافذ کیا جا رہا ہے کہ مزید گھریلو کمپنیاں یو پی آئی کے ماحولیاتی نظام میں اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں اور اس میں قرض کے لین دین کیلئے صرف روپے کریڈٹ کارڈ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔ وزارت خزانہ کے محکمہ مالی خدمات نے کہا ہے حکومت ہند نے روپے (Rupay)کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کو فروغ دیا ہے ، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ لوگوں کے پاس ایک مضبوط گھریلو متبادل موجود ہے ۔ روپے کریڈٹ کارڈ کی ترقی جاری رہے ، یہ یقینی بنانے کیلئے ڈیبٹ کارڈ پر ایم ڈی آر ختم رکھا گیا ہے ۔ محکمے نے کہا ہے کہ نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے 15 ستمبر، 2026 کے سرکلر میں روپے کے علاوہ کسی اور کریڈٹ کارڈ سے لین دین کی چھوٹ نہیں ہے ۔ پالیسی واضح ہے کہ یو پی آئی پر قرض میں لین دین صرف روپے کارڈ سے ہی کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے ہندوستان میں کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والوں میں روپے سب سے پسندیدہ کارڈ ہوگا۔محکمے نے کہا ہے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ منتخب اعلیٰ مالیت والے لین دین پر ایم ڈی آر نافذ کرنے سے مزید گھریلو کمپنیاں یو پی آئی کے ذریعے کام کر سکیں گی۔
محکمے نے کہا ہے ، ”اس طرح ایم ڈی آر نافذ کرنے کا قدم الیکٹرانک ادائیگی کے ماحولیاتی نظام میں ہندوستان کی خودمختاری کے تحفظ کی سمت میں ایک قدم ہے ۔” محکمے نے کہا ہے کہ ہندوستان سرکار نے روپے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کو فروغ دیا ہے ، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ لوگوں کے پاس ایک مضبوط گھریلو متبادل موجود ہے ۔ روپے کریڈٹ کارڈ کی ترقی جاری رہے ، یہ یقینی بنانے کیلئے ڈیبٹ کارڈ پر ایم ڈی آر ختم رکھا گیا ہے ۔ محکمے نے واضح کیا ہے کہ 30 فیصد بازار حصے کی حد اس لیے نہیں لگائی گئی تھی کیونکہ جب یہ اعلان کیا گیا تھا تو اس بازار میں آمدنی کمانے کا کوئی خود کفیل ماڈل نہیں تھا اور صرف بازار کی سرکردہ کمپنیاں ہی آپس میں مقابلہ کر سکتی تھیں۔ اعلیٰ مالیت کے لین دین پر ایم ڈی آر نافذ کرنے سے اب یو پی آئی نظام میں چھوٹی کمپنیاں بھی بڑی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گی۔ محکمے نے واضح طور پر کہا ہے ، ایم ڈی آر فیس اس مقصد سے نافذ کی گئی ہے کہ زیادہ تعداد میں گھریلو کمپنیاں اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔