Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / قبر میں دوسرا مردہ دفن کرنا

قبر میں دوسرا مردہ دفن کرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی خواہش ہے کہ وہ اپنی والدئہ مرحومہ کی قبر میں، جن کو انتقال کئے ہوے ایک عرصہ گذرچکا ہے، میری وفات کے بعد اس قبر میں مجھے دفنایا جائے۔
زید کی متذکرہ بالا خواہش میں کوئی شرعی امر مانع تو نہیں ہے ؟ جواب باصواب بشکل فتوی مطلوب ہے  ؟ بینوا تؤجروا
جواب :  قبر اگر اتنی پرانی ہوگئی ہو کہ اس میں میت گل کر مٹی ہوجانے کا یقین ہو تو ایسی حالت میں اس قبر کو کھول کر دوسری میت دفن کرنا جائز ہے۔ پہلی میت کی اگر کچھ ہڈیاں باقی رہ گئی ہوں تو ان کو یکجا کرکے بازو دفن کردیا جائے اورنئی میت اور ان ہڈیوں کے درمیان مٹی کا فصل بنادیا جائے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۱۶۷ باب الجنائز میں ہے: ولو بلی المیت وصار تراباً جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعہ والبناء علیہ کذا فی التبیین۔  اور رد المحتار جلد اول صفحہ ۶۲۴ میں ہے: قال فی الفتح ولا یحفر قبر لدفن آخر الا أن بلی الأول فلم یبق لہ عظم الا أن یوجد فتضم عظام الأول ویجعل بینھما حاجز من تراب۔
پس صورت مسئول عنہا میں مذکورہ حالت میں تدفین درست ہے اور اگر احیاناً پہلی میت مرور زمانہ کے باوجود تازہ رہے تو پھر فوراً قبر بند کردی جائے۔
عمداً جھوٹی قسم کے بعد توبہ ہے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے ایک مسجد کی کمیٹی کو یہ باور کرایا کہ وہ حافظ قرآن و قاری ہے اسی بناء پر موصوف کا تقرر امامت کیلئے ہوا۔ پندرہ دن بعد انہوں نے ایک شریف الخاندان گھرانے میں یہ کہہ کر شادی کی کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں عورت کی صورت تک نہیں دیکھی اس پر انہوں نے قسم بھی کھائی۔ ان پر بھروسہ کرکے لڑکی والوں نے عقد کردیا۔ چھ ماہ بعد معلوم ہواکہ صاحب موصوف کسی اور مسجد میں بحیثیت امام تھے اور وہاں پر اپنا نام کچھ اور رکھا تھا اور شادی شدہ ہیں، بیوی اور دو بچے ہیں۔ موصوف کے حافظ ہونے پر شک ہوا اور دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ میں پورے قرآن کا حافظ ہوں ایک تا بائیس پارے اچھی طرح یاد ہیں بعد کے آٹھ پارے جہاں پر متشابہات ہیں وہاں حفظ پکا نہیں ہے۔
ان حالات کی بناء پر موصوف کو خدمت امامت سے معطل کیا گیا۔ اب موصوف اپنی غلطیوں پر نادم و شرمندہ ہیں اور بارگاہ رب العزت میں توبہ کرکے آئندہ جھوٹ و فریب سے پرہیز کرنے کا وعدہ کررہے ہیں اور تمام مقتدیوں و محلہ کے مسلمان بھائیوں سے معافی کے خواہاں ہیں۔
ایسی صورت میں صاحب موصوف کو معاف کرتے ہوئے خدمت امامت پر رجوع کیا جاسکتا ہے یا کیا ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  صورت مسئول عنہا میں بکر نے جو جھوٹی قسم کھائی اور مسلمانوں کو غلط باور کرایا اس پر نادم ہوکر بارگاہ رب العزت میں تائب ہیں اور آئندہ سے ایسے ناشائستہ و غیر شرعی اعمال نہ کرنے کا عہد واثق کرتے ہیں تو ان کو خدمت امامت پر رکھا جاسکتا ہے۔ امید ہے کہ اﷲ تعالیٰ بھی معاف فرمادیں۔ درمختار کے کتاب الایمان جلد ۴ ص ۵۱میں ہے:  اثم الکبائر متفاوت نھر {ان حلف علی کذب عمدا} … {ویأثم بھا} فتلزمہ التوبۃ۔ اور ردالمحتار میںہے  {قولہ فتلزمہ التوبۃ}       اذ لاکفارۃ فی الغموس یرتفع بھا الاثم فتعینت التوبۃ للتخلص منہ۔
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم

TOPPOPULARRECENT