نماز کی اہمیت
اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّیْنِ … نماز دین کا ستون ہے جو رحمن( خدا ) کے سچے بندے ہیں اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں نماز کو چھوڑنا جہنم میں جانے کا
اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّیْنِ … نماز دین کا ستون ہے جو رحمن( خدا ) کے سچے بندے ہیں اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں نماز کو چھوڑنا جہنم میں جانے کا
جناب محمد رضی الدین معظم اکثر و بیشتر گھرانوں میں محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر دِلوں میں دشمنی پیدا ہوکر خاندانی اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جس سے ماحول خراب
ابویحییٰ محمد زکریا زاہد اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُؤمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ. اے اللہ! ہمیں بھی اور تمام مومن مردوں‘ مومن عور
سارے شہریوں اور خاص کر مسلمانوں پر اس کی حفاظت کی ذمہ داری ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ، اس کی بقاءو ترقی آئین و دستور کی حفاظت میں مضمر
نکلتے ہیں ان سے موتی اور مرجان ، پس (اے انس و جاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،اسی کے زیر فرمان ہیں وہ جہاز جو
عَنْ أَنَسٍ رضي اللہ عنه : في رواية طويلة أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم شَاوَرَ، حِيْنَ بَلَغَنَا إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ، وَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رضي اللہ عنه
امریکہ اور مغربی دنیا میں ’’دھریت‘‘ انکار وجود باری تعالیٰ کی تیز تند آندھی کی لپیٹ میں ’’ مذہب ‘‘ شدید طور پر جھلس رہا ہے جس سے عیسائی مذہب
تفریق و اختلاف کا نقیض اور ضد اجماع ہے۔ تفریق و اختلاف سے احتراز کے معنی یہ ہیں کہ اجماع و اتحاد اختیار کیا جائے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ
حبیب محمد بن عبداللہ رفیع المرغنی اُم المومنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بزرگ کا وصال ہوا، انکے ورثاء بوجہ وصال حالت ِ بیخودی میں تھے۔ بعض معتقدین نے ایک غیر مسلم
یہ بات کسی بھی باشعور شخص کیلئے محتاج دلیل نہیں ہے کہ اس امت کے معاملات میں علماء امت کا کردار مرکزی اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے، امت میں
مولانا سید شاہ احمد اﷲ باجنی قادری حضرت سید شاہ اسداﷲ باجنی قادری چشتی شطاری رحمۃ اللہ علیہ برہانپور میں پیدا ہوئے ۔ بچپن ہی میں والدہ محترمہ کا سایہ
مولوی سید امین الدین حسینی نظامی ۱) اسم گرامی : محمد انوار اللہ ۲) کنیت : ابو البرکات ۳) شاہی خطابات: فضیلت جنگ ،خان بہادر ۴) القابات عالیہ : شیخ
حافظ محمد سمیع الدین طاہر نظامی اللہ سبحانہٗ وتعا لیٰ کاارشاد ہے کہ اس نے اپنے انعام یا فتگان بندوں کو چار حصوں میں تقسیم فر مایا ہے (۱)پہلا حصہ
ملک کی موجودہ ناگفتہ بہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے کہ دستور خطرہ میں ہے ، ملک خطرہ میں ہے ، ایسے قوانین نافذ کئے جارہے ہیںجن
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اللّٰہُ اَعَزُّمِنْ خَلْقِہٖ جَمِیْعاً اللّٰہُ اَعَزُّمِمَّا اَخَافُ وَاَحْذَرُ، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْمُمْسِکُ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ اَنْ یَّقَعْنَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ مِنْ شَرِّ عَبْدِکَ
ہندوستان میں جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے ہمارے ملک کے حالات دگرگوں ہیں، جس رُخ سے جائزہ لیا جائےدستوری اعتبار سے زمام حکومت سنبھالنے میں حکومت سخت ناکام
اس نے رواں کیا ہے دونوں دریاؤں کو جو آپس میں مل رہے ہیں، ان کے درمیان آڑ ہے آپس میں گڈ مڈ نہیں ہوتے ۔(سورۂ رحمٰن ۱۹۔۲۰) جب آپ
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری گھرانے میں ایک اونٹ تھا جس پر (وہ کھیتی باڑی کیلئے) پانی بھرا کرتے تھے، وہ ان کے قابو
کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ نے دل سے دعاء مانگی ہو اور وہ قبول ہو گئی ہو۔ آپ کہیں گے کہ ایسا ایک بار نہیں، بلکہ کئی بار