واشنگٹن 2 مئی (ایجنسیز)ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران جنگ میں مصرف ہونے کے دورانیے میں دونوں ملکوں کے باہمی تعاون اور کوآرڈینیشن کے ساتھ کام کرنے والا ’سیول ملٹری کوآپریشن سنٹر‘ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کو لگنے والے دھچکوں کے باعث بند ہونے کے قریب آگیا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے زیر قیادت قائم کیا گیا یہ فورم بین الاقوامی سیکیورٹی مشن کے طور پر ان امور کی مانیٹرنگ کرتا ہے جو امریکہ کو سونپے گئے ہیں۔ اس کے ناقدین کے مطابق بھی یہ ادارہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کرنے اور اسرائیلی ناکہ بندی میں چلے آنے والے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ اس لیے اب بند ہونے کے قریب ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرس کو بتانے والے ذرائع کے بقول ’سی ایم سی سی‘ کو امریکہ کی انتظامیہ بند کرنے والی ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق اس کی بندش صدر ٹرمپ کے غزہ کے لیے امن منصوبے کے لیے سخت خطرناک ہو گی۔ کیونکہ ٹرمپ امن منصوبہ اسرائیل کے غزہ میں بار بار حملوں کی وجہ سے اور حماس کے خود کو غیر مسلح کرنے سے انکار کی وجہ سے پہلے ہی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ یاد رہے دس اکتوبر 2025 سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ابھی اسرائیلی فوج کے غزہ میں فلسطینیوں پر جاری آئے روز کے حملوں میں 800 سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ غزہ کی ناکہ بندی بھی بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر امن مصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے امن بورڈ کے پہلے باقاعدہ اجلاس کے فوری بعد اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں کود گئے تھے۔ امریکی ذرائع اور حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے اسرائیلی اشتراک سے قائم ‘سی سیم سی سی’ کی بندش کے لیے کوشش اس سے پہلے رپورٹ نہیں کی گئی ہے۔ تاہم اب اس کی راہ میں مشکلات نمایاں کی گئی ہیں۔ کیونکہ اسرائیل غزہ میں مزید علاقوں کو قبضے میں کر رہا ہے اور حماس اپنے زیر کنٹرول علاقے چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ کے اتحادی ملک بھی اس صورت حال میں اپنے لیے آسانی محسوس نہیں کرتے ہیں۔ ان اتحادیوں سے صدر ٹرمپ نے ‘سی ایم سی سی’ کے لیے اپنے اہلکار دینے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز دینے کے لئے کہا تھا۔ تاکہ اسرائیلی فوج نے دو برسوں کے دوران امریکی اسلحے اورحمایت کے ساتھ جو اندھی تباہی کی ہے اس کا کچھ ازالہ ہو سکے۔