انڈیا اتحاد کی احتجاجی ریلی

   

میں نہیں حالات سے مایوس ابھی
دوستو ہوتی ہے ہر شب کی سحر
اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جماعتوں کی جانب سے کانگریس کی قیادت میں یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی ریلی منعقد کرنے کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔ اس ریلی کو تاریخ ساز بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ امید کی جا رہ ہے کہ ملک بھر سے دس لاکھ افراد اس ریلی میں شرکت کریں گے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اس تعلق سے کوششیں شروع کردی گئی ہیں اور عوام میں شعور بھی بیدار کیا جا رہا ہے ۔ کئی جماعتوں کے کارکن اس ریلی کیلئے تیاریاں کر رہے ہیں۔ کچھ ریاستوں سے کانگریس کارکنوں کے قافلے روانہ ہونگے اور یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ پیشگی خواہش کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے خصوصی ٹرینوں کا اہتمام بھی نہیں کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ جہاں تک دہلی کے رام لیلا میدان کا سوال ہے تو پولیس کی جانب سے اس ریلی کی اجازت تو دیدی گئی ہے تاہم کانگریس کارکنوں اور قائدین کا کہنا ہے کہ اس اجازت کے باوجود ریلی کو سبوتاج کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ نت نئی شرائط عائد کی جا رہی ہیں اور ریلی کو ناکام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت نے پہلے ملک میں جمہوری عمل کو داغدار کردیا ہے اور جمہوریت کے تحفظ اور بحالی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کی آواز کو بھی دبانے کی کوششیں اب تیز کردی گئی ہیں۔ ریلی کیلئے پہلے ہی پولیس سے اجازت طلب کی گئی تھی اور پولیس نے کچھ شرائط کے ساتھ اجازت دیدی ہے ۔ ملک کی کئی ریاستںو سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں نے بھی اس ریلی میں شرکت کیلئے تیاریا شروع کردی ہیں اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ملک میں یہ ایک تاریخی ریلی ہوگی اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس ریلی میں شرکت کرسکتے ہیں ۔اس طرح یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ اس ریلی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی مختلف گوشوں سے کوششیں کی جائیں گی بلکہ کی جا رہی ہیں۔
پہلے تو دہلی کے تاجروں کو بی جے پی نے استعمال کرنے کی کوشش کی اور اس ریلی کے خلاف ان کے بانات دلوائے گئے ۔ ان سے تجارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ریلی ملتوی کرنے کی راہول گاندھی سے درخواست کروائی گئی ۔ راہول گاندھی نے بالکل واضح اور دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو برطرف کردیتے ہیں تو 30 سکنڈ میں احتجاج ختم ہوجائے گا ۔ اس طرح کسی طرح کا جواب دینے کی بجائے دوبارہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو مکتوب روانہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ۔ ان ساری کوششوں کا مطلب یہی ہے کہ کسی طرح سے ریلی کو ملتوی کیا جائے اور جو تیاریاں کی گئیں تھیں ان کو روکا جاسکے ۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں جو جوش و خروش ہے اس کو ٹھنڈا کیا جائے اور پھر ریلی کو ناکام ظاہر کرنے کی کوشش کی جائے ۔ تاحال اس طرح کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں اور آگے بھی کامیاب ہونے کی امید نہیں ہے ۔ ایسے میں یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ رام لیلا میدان پر یکم نومبر کو ہونے والی ریلی تاریخی کامیابی سے ہمکنار ہوگی اور اس کے ذریعہ لوگ ملک کے جمہوری نظام کی حفاظت اور ایس آئی آر کے نام پر ہوئی دھاندلیوں کے خلاف اپنی ناراضگی اور برہمی کا اظہار کریں گے ۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے گیانیش کمار کے خلاف جاری مہم کو بھی تقویت حاصل ہوگی اور حکومت پر دباؤ بڑھے گا ۔
حکومت اور بی جے پی کو خود بھی یہ اندازہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور ایس آئی آر کے تعلق سے ملک کے عوام میں جو ناراضگی اور برہمی پائی جاتی ہے اس میں بھی اضافہ ہوگا ۔ شائد اسی لئے اس ریلی کو روکنے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیں اور اسے ناکام بنانے کی کوششیں ریلی سے قبل تک کی جاتی رہیں گی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد کی جماعتیں اس معاملے میں چوکسی برتیں۔ اس کو ناکام بنانے کی جو کوششیں ہوسکتی ہیں ان کو ناکام بنانے کیلئے تیار رہیںا ور کسی کو بھی صورتحال کے استحصال کا موقع نہ دیا جائے اور نہ ہی ریلی کے انعقاد کی راہ میں کسی رکاوٹ کو برداشت کیا جائے۔