امجد خان
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں جہاں ایران میں تباہی مچ گئی وہیں امریکہ و اسرائیل کے ساتھ خلیجی ممالک کو بھی ناقابل تصور نقصانات برداشت کرنے پڑے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ و متحدہ حملوں کو 36 دن گزر چکے ہیں، عالمی سطح پر جو میڈیا رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں، ان میں بتایا گیا کہ صرف امریکہ اور اسرائیل کو مشترکہ طور پر 150 ارب ڈالرس کا نقصان ہوا جبکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان ملکوں کو کم از کم 300 ارب ڈالرس کا نقصان ہورہا ہے۔ دوسری جانب اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایران جنگ کے منفی اثرات سے مغربی ایشیاء میں معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ نتیجہ میں مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اب تو اس جنگ کے اثرات ہندوستان پر بھی مرتب ہونے لگے ہیں۔ جہاں تک اس بحران کا سوال ہے یہ صرف کروڈ آئیل (خام تیل) یا ایل پی جی کی سربراہی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات ہمارے ملک میں ہینڈلوم، سیاحت و میزبانی کے شعبہ پر بھی مرتب ہورہے ہیں اور جس کا واضح طور پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اِس ضمن میں دی وائر میں ایک خصوصی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ لکھنؤ کی چکن کاری صنعت فیروز آباد کی شیشہ صنعت، کشمیر کی دستکاری صنعت، چندی گڑھ کے ایم ایس ایم ای اور میزبانی شعبہ پر جنگ کے منفی اثرات پڑے ہیں۔ جہاں تک لکھنؤ کی چکن کاری صنعت کا سوال ہے ایران کے خلاف جنگ کے خطرناک اثرات اس صنعت پر مرتب ہوئے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ لکھنؤ کی چکن کاری صنعت سالانہ زائداز 550 کروڑ روپئے لاگتی ہے جس میں اندرون ملک تجارت کے ساتھ ساتھ درآمدات دونوں شامل ہیں۔ صرف سو کروڑ روپئے کی برآمدات تو خلیجی ملکوں، 70 کروڑ روپئے کی درآمدات یوروپ اور دوسرے عالمی بازاروں کے لئے ہوتی ہے لیکن پچھلے 36 دنوں سے یہ برآمدات پوری طرح سے بند ہوگئی ہیں۔ اس صنعت کو پہلے ہی سے صدر ڈونالڈٹرمپ کی جانب سے عائد ٹیرف نے متاثر کر رکھا تھا۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، ایران جنگ سے فیروز آباد کی شیشہ صنعت بھی متاثر ہوئی۔ سب سے پہلے آپ کو بتانا چاہیں گے کہ فیروز آباد کو کانچ کا شہر یا گلاس سٹی کہا جاتا ہے اور یہ موسم کانچ کی صنعت میں مینو فیکچرنگ کے عروج ہوتا ہے۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جنگ کے نتیجہ میں پیدا معاشی بحران سے ہر روز اس صنعت سے وابستہ ہزاروں مزدور بیروزگار ہورہے ہیں۔ اس صنعت کی خاص بات یہ ہے کہ گیس سے یہ چلتی ہے اور اس میں جو بھٹیاں استعمال کی جاتی ہیں، انھیں مسلسل ہزار ڈگری سیلسیس یعنی 1832 فارن ہٹ سے زیادہ درجہ حرارت پر چلانا پڑتا ہے تاکہ شیشہ پگھلا رہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہ آئے۔ یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ ہمارے ملک میں چھوٹی اور بڑی تمام صنعتیں گیس پر چلتی ہیں۔ ملک میں تیل کا ذخیرہ ضرور ہے جیسا کہ مودی حکومت کا دعویٰ ہے لیکن ملک میں گیس کا ذخیرہ زیادہ نہیں ہے۔ آپ سب یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشمیر کی دستکاری صنعت ساری دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے خاص طور پر ریشمی قالینوں اور پشمینہ شال و دیگر مصنوعات ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ دی آن کی رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا کہ چین، متحدہ عرب امارات اور یوروپ میں تین بڑی اور اہم نمائشیں منعقد ہوتی ہیں لیکن مشرق وسطیٰ میں ایران جنگ کے نتیجہ میں جو کشیدگی پیدا ہوئی اس کے باعث اُن نمائشوں کو منسوخ کردیا گیا یا وہ ملتوی کردی گئیں۔ جنگ کے نتیجہ میں درآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔کشمیر چیمبر آف کامرس کے صدر کا کہنا ہے کہ یہ وقت عام طور پر ہمارے لئے برآمدات کے عروج کا سیزن ہوتا ہے اور کشمیری قالین دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجی جاتی ہیں لیکن بدقسمتی سے مغربی ایشیاء کی صورتحال نے سب کچھ متاثر کرکے رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ یوروپ کشمیری قالینوں اور پشمینہ مصنوعات کے سب سے بڑے بازاروں میں سے ایک ہے اور کشمیری قالینوں کا ایک بڑا حصہ بین الاقوامی سطح پر فروخت ہوتا ہے۔ جہاں تک چندی گڑھ کی چھوٹی متوسط صنعتوں اور میزبانی کے شعبہ کا سوال ہے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں نے حالات خراب کرکے رکھ دیئے ہیں۔ خام مال (Raw Material)، ایندھن کی لاگت میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں حائل ہونے کے نتیجہ میں مائیکرو اسمال اور میڈیم انٹر پرائزس اور میزبانی کی صنعت پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مغربی ایشیاء کے اس تنازعہ کا اثر کنڈومس تیار کرنے والی صنعت پر بھی پڑا ہے۔ دی آن کی رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا کہ پٹرو کمیکل سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث ملک کی اس انڈسٹری پر اثر پڑا ہے جو زائداز 8000 کروڑ روپئے لاگتی ہے۔ ہر سال بتایا جاتا ہے کہ 400 کروڑ سے زیادہ کنڈومس کی تیاری عمل میں آتی ہے جہاں تک کنڈوم کی تیاری کا سوال ہے اس کی تیاری میں سلیکان آئیل اور امونیا استعمال ہوتا ہے اور فی الوقت سلیکان آئیل بہت کم دستیاب ہے جس کے نتیجہ میں مارکٹ بے چینی کا شکار ہے۔ کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیٹ نے ایک ویڈیو جاری کیا جس میں اُنھوں نے پرزور انداز میں کہاکہ یکم اپریل سے مودی حکومت نے بڑی خاموشی سے کئی ایک اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ کمرشیل گیس سیلنڈر کی قیمت میں 218 روپئے، پرئمیر پٹرول کی قیمت میں 11 روپئے، پریمیر ڈیزل کی قیمت میں 1.5 روپئے، ٹول ٹیکس میں 10 فیصد، 900 ادویات کی قیمتوں میں 10 فیصد کا اضافہ کیا گیا جبکہ اس بات کے پورے پورے امکانات پائے جاتے ہیں کہ مغربی بنگال، آسام، ٹاملناڈو،کیرالا اور مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری اسمبلی انتخابات کے فوری بعد پٹرول، ڈیزل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 15 تا 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا اور اس طرح مودی حکومت ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکی جنگ کا بوجھ عام ہندوستانی شہریوں پر ڈال دے گی جبکہ کانگریس قائدین کے خیال میں مودی کے حامی نیپال اور پاکستان سے موازنہ کرتے ہیں حالانکہ ہمیں بدحال پاکستان یا نیپال سے موازنہ کرنے کی بجائے برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ملکوں سے موازنہ کرنا چاہئے۔ برطانیہ میں تو بجلی کے بل پر 100 پاؤنڈ کی چھوٹ دی جارہی ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں گیس اسٹیشنوں پر آٹوز کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ اس طرح بیرونی سرمایہ کاروں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے ہندوستان سے زائداز 13 ارب ڈالرس کا سرمایہ نکال لیا ہے۔ تاہم اس ضمن میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔