برقی اداروں کو خانگیانے اپوزیشن کے الزامات مسترد

   

یادادری پاور اسٹیشن میں 4000 میگاواٹ کی صلاحیت، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کی وضاحت
حیدرآباد 13 اکٹوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ 4000 میگاواٹ صلاحیت کے یادادری تھرمل پاور اسٹیشن کے قیام کے وقت سابق بی آر ایس حکومت نے کوئلہ کے الاٹمنٹ کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ یہ ملک کا پہلا تھرمل پاور پراجکٹ ہے جس کے لئے کوئلہ کی سربراہی کا کوئی نظم نہیں۔ پرجا بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر جو برقی کے وزیر بھی ہیں، کہاکہ سابق بی آر ایس حکومت نے پراجکٹ کے آغاز سے قبل کوئلہ کے الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں بارہا تبدیلی کی۔ اُنھوں نے بی آر ایس قائدین خاص طور پر ہریش راؤ کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہاکہ اپنی غلطی کو کانگریس حکومت کے سر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سابق حکومت نے ابتداء میں سنگارینی کالریز سے سربراہی کا منصوبہ بنایا تھا جبکہ پراجکٹ کے لئے درکار سالانہ 14 ملین ٹن کوئلہ سنگارینی کی کانوں میں دستیاب نہیں ہے۔ اُنھوں نے وضاحت کی کہ 2022ء میں جب سنگارینی کالریز سے کوئلہ کی سربراہی کا معاہدہ ہوا اُس وقت G9 گریڈ کوئلہ کی سالانہ پیداواری صلاحیت محض 1.71 ملین ٹن تھی۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ یادادری تھرمل پاور پراجکٹ کے نتیجہ میں تلنگانہ کے برقی اداروں پر اضافی بوجھ عائد ہوا ہے۔ کوئلہ کی سربراہی کے سلسلہ میں برقی اداروں پر 40 ہزار کروڑ کا بوجھ عائد ہوا۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس حکومت یادادری پلانٹ سے برقی کی تیاری کے لئے جامع منصوبہ بندی کررہی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے برقی اداروں کو خانگیانے کے امکانات کو مسترد کردیا اور کہاکہ حکومت کے پاس اِس طرح کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ بی آر ایس لیڈر ہریش راؤ حکومت کے امیج کو متاثر کرنے کے لئے الزام تراشی کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ مانسون کی ناکامی اور ایل نینو کے منفی اثرات کے باوجود حکومت نے برقی طلب کے مطابق سربراہی کو یقینی بنایا ہے۔ تلنگانہ میں برقی کی طلب 19892 میگاواٹ سے بڑھ کر 21000 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ زرعی، گھریلو اور صنعتی اغراض کے لئے مؤثر سربراہی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ برقی کی طلب پر قابو پانے کے لئے سولار انرجی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔V/1
ان پیکٹوں میں سبز رنگ کا ایک مادہ موجود تھا، جس کی جانچ منشیات کی شناخت کرنے والی کٹ کے ذریعے کی گئی تو اس میں گانجا/ماریجوانا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔