بریانی ہندوؤں کی دکانوں سے ہی کھائیں

,

   

درگا پوجا سے قبل مغربی بنگال میں پوسٹر تنازعہ، مختلف قائدین کی شدید تنقید
کولکاتہ ۔13؍اکتوبر ( ایجنسیز )درگا پوجا سے پہلے ہی مغربی بنگال میں پوسٹروں کو لے کر سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔بریانی اور پوجا کا سامان ہندو دکانداروں سے خریدنے کی اپیل کرنے والے پوسٹرسوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں۔ ان پوسٹروں کے سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے معاملے میں پولیس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔سلی گوڑی میں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم ہندو جاگرن منچ نے یہ پوسٹر لگائے ہیں۔ تنظیم نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ یہ پوسٹر کوئی حکم نہیں بلکہ لوگوں سے کی گئی ایک اپیل ہیں۔سوشل میڈیا پروائرل ہونے والے پوسٹر پر لکھا ہے آپ کو بریانی کھانے سے کوئی نہیں روک رہا ہے۔ بریانی ضرور کھائیں لیکن ہندو دکانوں سے۔ان پوسٹروں کو لے کر سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے اور اپوزیشن جماعتیں اسے مذہب کی بنیاد پر کاروبار اور کھانے پینے کی چیزوں کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے رکن اسمبلی کنال گھوش نے سلی گوڑی کے واقعہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ذائقے کو مذہبی حدود میں نہیں باندھا جاسکتا۔انہوں نے کہا کسی ہندو کی دکان کی بریانی بہت مزیدار ہوسکتی ہے تو کسی مسلمان کی دکان کی بریانی کا ذائقہ بھی شاندار ہوسکتا ہے۔ کھانے کی پہچان اس کے ذائقے سے ہوتی ہے، مذہب سے نہیں۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اشوک بھٹاچاریہ نے پوسٹروں کے معاملے میں پولیس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا، ایک سیکولر اور جمہوری ملک میں اس طرح کے پوسٹر لگانا جرم ہے۔درگا پوجا سے پہلے سامنے آنے والے اس تنازعہ نے مغربی بنگال میں مذہب، کھانے پینے اور کاروبار کو لیکر ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔