آگرہ : مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح کو تاج محل کے باغ میں نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ ہفتہ کو اس وقت پیش آیا جب ڈیوٹی پر موجود سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے عہدیداروں نے سیاح کو اپنی نماز کے لئے جانماز بچھاتے ہوئے دیکھا۔آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے سینئر کنزرویشن اسسٹنٹ پرنس واجپائی نے کہاکہ جمعرات کو ایک ویڈیو منظر عام پر آیا اور اس بات کی تصدیق ہوئی کہ مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح نے تاج محل کے باغ میں اپنی نماز کی چٹائی بچھائی تھی۔ سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس کے عہدیداروںنے اس معاملے میں فوری مداخلت کی۔سیاح کو کنٹرول روم میں لے جایا گیا جہاں اس نے تاج محل میں نماز ادا کرنے پر پابندی پر حیرت کا اظہار کیا۔اس نے تاج محل میں نماز ادا کرنے کی ممانعت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔اس کے بعد، انہوں نے تحریری معافی نامہ جمع کرایا اور انہیں اپنے دورے کو آگے بڑھانے کی اجازت دی گئی۔ پرنس واجپائی نے واضح کیا کہ نماز ادا نہیں کی گئی تھی ۔اے ایس آئی آگرہ سرکل راج کمار پٹیل کا تب حوالہ دیا گیا کہ جمعہ کے دن بھی صرف تاج گنج علاقے کے رہائشیوں کوجہاں مقبرہ واقع ہے، دوپہر 12 بجے سے 2 بجے کے درمیان نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔