عہدیدار خاطر میں نہیں لارہے ہیں ، یومیہ اجرت کے ملازمین تنخواہوں سے محروم
حیدرآباد۔21اپریل(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارد اد کی عہدیداروں کے پاس کوئی اہمیت نہیں ہے یا عہدیداربورڈ کو خاطر میں لانے کے لئے آمادہ نہیں ہیں! تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے اجلاس کے دوران تمام اراکین نے بہ اتفاق آراء بورڈ میں یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی اضافی تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں قرارداد منظور کرتے ہوئے ان کے گذشتہ تین ماہ کے بقایاجات کے ساتھ عید الفطر سے قبل جاری کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں لیکن اس قرارداد کی منظوری کے باوجود احکامات کی عدم اجرائی اوربقایاجات کی اجرائی کے سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کئے جانے سے صدرنشین و اراکین بورڈ میں ناراضگی پائی جا نے لگی ہے اور کہا جا رہاہے بورڈ کے فیصلہ کے باوجود یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا جانا اور ان کے بقایاجات جن کے سلسلہ میں بورڈ نے واضح طور پر کہا تھا کہ عید الفطر سے قبل جاری کئے جائیں اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کی پہل نہ کئے جانے کو افسوسناک قرار دیا جانے لگا ہے ۔ یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے زائد از 55 ملازمین کی اجرتوں میں اضافہ کے متعلق ارکان وقف بورڈ نے ہمدردانہ غور کرتے ہوئے فوری اثر کے ساتھ ان ملازمین کی اجرت میں اضافہ کا فیصلہ کیا تھا اور اجلاس ہوئے تین ہفتہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود اس پر عمل آوری نہیں کی گئی ۔ یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے ملازمین جو بورڈ کے اس فیصلہ سے بے انتہاء خوشی دیکھی جارہی تھی لیکن ان کی یہ خوشی دیر پا ثابت نہیں ہورہی ہے کیونکہ عہدیداروں کو ان کی اجرتوں میں اضافہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ بعض عہدیداروں کی جانب سے یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں ہے جبکہ سابق میں جناب شاہنواز قاسم آئی پی ایس نے بھی یومیہ اجرتوں پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی اجرتوں میں اضافہ کے فیصلہ کو منظوری دی تھی لیکن انتظامی معاملات میں ہونے والی تاخیر کے سبب اس مسئلہ کو گذشتہ بورڈ کے اجلاس میں پیش کیا گیا اور بورڈ کی منظوری کے باوجود احکامات جاری نہیں کئے گئے ۔ ذرائع کے مطابق یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے مایوس ملازمین صدرنشین جناب محمد مسیح اللہ خان کے علاوہ بورڈ میں شامل ارکان سے رجوع ہوتے ہوئے عید الفطر سے قبل بورڈ کی منظوری کے عین مطابق ان کے تین ماہ کے بقایاجات کی اجرائی کو یقینی بنانے کی خواہش کررہے ہیں لیکن ان کی اس مایوسی پر ارکان وقف بورڈ بھی اپنی بے بسی کا اظہار کرنے لگے ہیں کیونکہ ان کے اختیار میں فیصلہ کرنا تھا اور انہوں نے فیصلہ کرتے ہوئے احکامات کی اجرائی کی ہدایات جاری کردی ہیں لیکن اب اگر سرکاری حکام یا دفاتر معتمدی کی جانب سے بورڈ کے معاملات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بورڈ کی اہمیت کوگھٹانے کی کوشش کے مترادف ثابت ہوگا اسی لئے عہدیداروں کوچاہئے کہ وہ اس مسئلہ کی فوری طور پر یکسوئی یقینی بنائیں۔م