جنگ آزادی سے اردو کا بڑا گہرا تعلق

   

یومِ آزادی کے موقع پر اردو یونیورسٹی میں پروفیسر عین الحسن کا خطاب
حیدرآباد، 15 اگست (پریس نوٹ) جنگ آزادی اور اردو کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ اردو زبان ہی ہے جس نے سرفروشی کی تمنا اور انقلاب جیسے نعرے دیئے۔ اس کے علاوہ مولوی محمد باقر وہ اردو کے صحافی تھے جنہوں نے آزادی کے لیے جان کا نذرانہ دیتے ہوئے تاریخ میں اپنا نام پہلے شہید صحافی کے طور پر کروایا۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے پرچم کشائی کے بعد کیا۔ وہ آج اردو یونیورسٹی میں 80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ رسم پرچم کشائی انجام دینے کے بعد حاضرین کو مخاطب تھے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ آزادی کی اہمیت کو ہمیشہ مدنظر رکھیں اور اس کے تحفظ کے لیے ہر دم مستعد رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جامعہ میں صرف اساتذہ کا ہی نہیں بلکہ طلبہ اور غیر تدریسی عملے کا بھی رول بڑا اہم ہوتا ہے۔ اور جب ہر کوئی اپنی ذمہ داریاں صحیح نبھائے تب ترقی کا سفر آسان ہوتا ہے اور منزل بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر معراج احمد، کلچرل کوآرڈینیٹر اور پروفیسر مظفر حسین خان کی نگرانی میں یونیورسٹی کے کلچرل کلب کے طلبہ نے قومی ترانہ اور حب الوطنی پر مبنی نغمے پیش کیے۔ اس موقع پر پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار اور پروفیسر ایم اے عظیم، پراکٹر وائس چانسلر کے ہمراہ موجود تھے۔ لفٹننٹ ڈاکٹر محمد عبدالمجیب ، اسوسیئٹ این سی سی آفیسر کی نگرانی میں ون تلنگانہ آرٹی بیٹری این سی سی مانو سب یونٹ کے کیڈٹس نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے این سی سی کیڈٹس میں B اور C سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔ پرچم کشائی کی اس تقریب میں ڈاکٹر محمد مصطفیٰ علی سروری، افسر تعلقات عامہ نے پروگرام کی کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر محمد یوسف خان، صدر نشین کی نگرانی میں کمیٹی نے این سی سی سی کیڈٹس ناموں اناونسمنٹ کیا۔ڈائرکٹر رضوان احمد کی نگرانی میں آئی ایم سی ٹیم نے یوٹیوب اور سوشیل میڈیا پر پروگرام کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا۔