جوبلی ہلز میں قبرستان کا مسئلہ پھر موضوع بحث، عوامی تحریک کا امکان
حیدرآباد۔12۔ستمبر۔(سیاست نیوز) گولکنڈہ 18 سیڑھی کے قریب قبرستان میں تدفین کو روک دیئے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر ’حلقہ اسمبلی ‘ جوبلی ہلز میں قبرستان کا مسئلہ موضوع بحث بننے لگا ہے اور کہاجار ہاہے کہ جلد ہی جوبلی ہلز کے عوام اپنے حلقہ کے لئے قبرستان کی اراضی کی تحریک شروع کریں گے کیونکہ جوبلی ہلز ضمنی انتخابات سے قبل انہیں دو مرتبہ اور انتخابات کے بعد ایک مرتبہ قبرستان کی اراضی کے معاملہ میں دھوکہ دیا گیا ہے ۔ جوبلی ہلز ضمنی انتخابات سے قبل ریاستی حکومت کے بعض غیر ذمہ دار قائدین کی جانب سے ایرہ گڈہ میں واقع قدیم قبرستان کی دیوار کو منہدم کرتے ہوئے راستہ نکالنے کی کوشش کے دوران قبرستان میں تدفین پر امتناع عائد کروادیا جبکہ مذکورہ اراضی انتہائی قدیم قبرستان کا حصہ ہے۔ جوبلی ہلز انتخابات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی سے عین قبل کی گئی اس کاروائی کو عدالتی رسہ کشی کا شکار بنانے سے قبل الکا پور کالونی کے قریب قطب شاہی مسجد سے متصل اراضی کو قبرستان کے لئے مختص کرنے کے اقدامات اور احکامات کی اجرائی کے بعد اس اراضی کی حوالگی کا پروگرام منعقد کرتے ہوئے اراضی کو مقامی عوام کے حوالہ کرنے کی تقریب منعقد کی گئی تھی لیکن لمحہ آخر میںاس تقریب سے تمام منتخبہ و نامزد ذمہ دار غائب ہوگئے کیونکہ عرصہ دراز سے مسلمانوں کی نگرانی اور مسجد سے متصل حصہ کے طور پر موجود 2000 گز سے زائد اس اراضی پر محکمہ دفاع نے اپنا دعویٰ پیش کرتے ہوئے اس جگہ پر کسی بھی طرح کی سرگرمیوں کی انجام دہی پر پابندی عائد کردی لیکن جوبلی ہلز ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدہ کے مطابق سال گذشتہ کے اختتام سے قبل جاری کئے گئے احکامات کے مطابق پیلی درگاہ یوسف گوڑہ کے تحت موجود موقوفہ اراضی کو تدفین کے لئے قبرستان کے طور پر نشاندہی کرتے ہوئے مسلمانوں کے حوالہ کرنے کے اقدامات کئے گئے اور مسلمانوں کی اراضی مسلمانوں کے حوالہ کرنے کے احکامات کی اجرائی کے ساتھ اس بات کی ہدایت دی گئی کہ اندرون ایک مہینہ اس قبرستان میں تدفین کا عمل شروع کیا جانا چاہئے اور مذکورہ اراضی کو تدفین کے لئے مختص کیاگیا ہے لیکن اس اراضی کی تخصیص کے ساتھ ہی یہ اراضی بھی تنازعہ کا شکار ہوگئی اور ایکس سروس مین کی تنظیم نے اس اراضی کو انہیں مختص کی گئی اراضی قرار دیتے ہوئے عدالت میں مقدمہ دائر کردیا اس طرح حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے مسلمانوں کے قبرستان کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے لیکن گذشتہ دنوں قلعہ گولکنڈہ کے قریب موجود قدیم قبرستان میں محکمہ دفاع اور ملٹری حکام کی جانب سے تدفین کی اجازت نہ دئیے جانے پر مقامی عوام میں شدیدبرہمی پیدا ہونے لگی ہے کیونکہ تدفین کو روکنے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران کسی بھی سیاسی نمائندے نے ملٹری عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے مسلمانوں کے اس مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے ۔3