Friday , December 13 2019

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

بابری مسجد اراضی … درخواست نظرثانی پر نظریں
مہاراشٹرا … بی جے پی کا سیاسی سرجیکل اسٹرائیک
چاچا سے بھتیجے کی بغاوت … کرسی کیلئے کچھ بھی کرے گا

رشیدالدین
بابری مسجد اراضی ملکیت معاملہ میں سپریم کورٹ فیصلہ کے صدمہ سے مسلمان ابھی ابھر نہیں پائے کہ سنگھ پریوار کے کٹر پسند عناصر نے 6 ڈسمبر سے مندر کی تعمیر کے آغاز کا اعلان کردیا۔ اس طرح نہ صرف ایودھیا بلکہ ملک بھر میں پرامن فضاء مکدر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 6 ڈسمبر بابری مسجد شہادت سانحہ کے 27 سال مکمل ہوجائیں گے ۔ جیسے جیسے یہ تاریخ قریب آرہی ہے عدالت کے فیصلہ کی روشنی میں مسلمان اندیشوں کا شکار ہیں کہ دوسری طرف سنگھ پریوار کے حوصلے بلند ہیں۔ وہ اس دن مندر کی تعمیر کا رسمی طور پر آغاز کرنے کی تیاری میں ہے۔ ظاہر ہے کہ عدالت کی جانب سے اراضی مندر کے لئے حوالے کرنے کے بعد تعمیر میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔ مندر کی تعمیر کے حق میں تحریک چلانے والی تنظیموں کو مرکز کی جانب سے ٹرسٹ کے قیام تک کا انتظار گوارا نہیں ہے۔ یوں بھی مندر کی تعمیر کیلئے ایک سے زائد تنظیموں کی دعویداری ہے اور ہر کوئی تعمیری کام کے آغاز میں سبقت لیجاتے ہوئے کریڈٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل منظم انداز میں مہم کے ذریعہ مسلمانوں کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کی گئی، ٹھیک اسی طرح 6 ڈسمبر سے قبل جارحانہ فرقہ پرست عناصر سرگرم ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 27 برسوں سے ہر سال 6 ڈسمبر اس سانحہ کی یاد تازہ کرتا ہے، جس دن قانون اور دستور کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ اراضی کی ملکیت کے بارے میں طویل قانونی جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو فیصلہ صادر کیا۔ عدالت کے فیصلہ پر ملک بھر میں مباحث ہوئے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے فیصلہ ضرور سنادیا لیکن عدالتی کشاکش کا مرحلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ دستور نے فیصلہ کے خلاف درخواست نظرثانی کی گنجائش رکھی ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق درخواست نظرثانی کو 7 رکنی دستوری بنچ سے رجوع کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے سبرمالا مندر میں خواتین کے داخلہ کے تنازعہ کو دستوری بنچ سے رجوع کردیا ۔ ایودھیا تنازعہ میں قانونی لڑائی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے مرکز نے مندر کی تعمیر کیلئے ٹرسٹ کے قیام میں کوئی پیشرفت نہیں کی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مندر کی تعمیر سے زیادہ مشکل کام حکومت کیلئے مندر کے دعویداروں کو قابو میں کرنا ہے۔ اب جبکہ 6 ڈسمبر کی تاریخ قریب آرہی ہے ، ایودھیا میں سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کو کسی بھی سرگرمی سے روکنا حکومت کیلئے چیلنج سے کم نہیں ۔ اگر ان تنظیموں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تو امن کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد بھگوا بریگیڈ کے حوصلے بلند ہیں لیکن انہیں کسی بھی غیر قانونی حرکت سے روکنا حکومت کا فریضہ ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ میں درخواست نظرثانی داخل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اگر 6 ڈسمبر سے قبل درخواست نظرثانی داخل نہیں کی گئی تو ایودھیا میں مسجد کی اراضی پر تعمیری سرگرمی کا خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی رو سے اس کام میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔ اگر 6 ڈسمبر سے قبل درخواست نظرثانی سماعت کیلئے قبول ہوجاتی ہے تو اراضی عدلیہ اور قانون کے تحفظ میں آجائے گی اور تعمیری سرگرمیوں کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیا 6 ڈسمبر سے قبل درخواست نظرثانی داخل کردی جائے گی ؟ درخواست کے ادخال کی صورت میں کیا 6 ڈسمبر سے قبل عدالت سماعت کرے گی؟ سماعت کے لئے موجودہ 4 ججس کے ساتھ جسٹس رنجن گوگوئی کی جگہ نئے جج کو بنچ میں شامل کرنا ہوگا۔ نئے جج کی شمولیت کے ساتھ کیا 5 رکنی بنچ 6 ڈسمبر سے قبل تشکیل پا جائے گا ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ماہرین قانون کے درمیان بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ درخواست نظرثانی اگرچہ داخل نہیں ہوئی لیکن غیر محسوس طریقہ سے مہم شروع کردی گئی کہ اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ جس طرح اصل مقدمہ کے فیصلہ سے قبل مندر کے حق میں فیصلہ کا دعویٰ کرتے ہوئے مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی گئی، اسی طرح ابھی سے یہ کہا جارہا ہے کہ درخواست نظرثانی مسترد کردی جائے گی۔ اس دعویٰ کے حق میں یہ استدلال پیش کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ میں 99 فیصد درخواست نظرثانی مسترد کردی گئی۔ بھلے ہی ایک بھی درخواست نظر ثانی قبول نہ ہوئی ہو لیکن کیا اس اندیشہ سے مسلمان حق اور انصاف کی لڑائی ترک کردیں ۔ سبری مالا مندر میں پانچ رکنی بنچ کے فیصلہ کے خلاف نظرثانی کی درخواست کو نہ صرف قبول کیا گیا بلکہ مکمل سماعت کے بعد دستوری بنچ سے رجوع کردیا گیا۔ جب سبری مالا مندر مسئلہ دستوری بنچ سے رجوع ہوسکتا ہے تو بابری مسجد اراضی ملکیت مقدمہ کیوں نہیں ؟ دستور اور قانون نے جب حق دیا ہے تو انصاف کے حصول کیلئے آخری حد تک کوشش کی جاسکتی ہے۔
مہاراشٹرا میں رات کی تاریکی میں بی جے پی نے سیاسی سرجیکل اسٹرائیک کرتے ہوئے منظر نامہ تبدیل کردیا۔ رات تک کانگریس ، این سی پی اور شیوسینا نے مخلوط حکومت کی تشکیل کا فیصلہ کرتے ہوئے اجلاس منعقد کیا اور اودھو ٹھاکرے اس امید کے ساتھ نیند کی آغوش میں چلے گئے کہ انہیں صبح چیف منسٹر کے عہدہ کی دعویداری گورنر کو پیش کرنی ہے لیکن نیند سے بیدار ہونے تک چیف منسٹر کی کرسی پر کوئی اور فائز ہوچکا تھا۔کسی کو پتہ نہیں تھا کہ رات کی تاریکی میں جنگی خطوط پر امیت شاہ اور نریندر مودی ’’مشن کنول‘‘ پر عمل آوری کرتے ہوئے صبح تک بی جے پی کی حکومت قائم کردیں گے۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی اور شیوسینا میں اختلافات کے بعد تشکیل حکومت میں ناکامی کو دیکھتے ہوئے صدر راج نافذ کردیا گیا تھا ۔ سیاسی مبصرین کو حیرت تھی کہ امیت شاہ اور نریندر مودی خاموش کیوں ہیں۔ شیوسینا، کانگریس اور این سی پی اتحاد کی سرگرمیوں پر بی جے پی کے چانکیا امیت شاہ کی مسلسل نظر تھی اور انہوں نے صحیح وقت پر سرجیکل اسٹرائیک کرتے ہوئے تینوں پارٹیوں کو ڈھیر کردیا۔ جس طرح رات میں جرائم ہوتے ہیں، اسی طرح سیاسی توڑ جوڑ کے ذریعہ دیویندر فڈنویس کو چیف منسٹر اور اجیت پوار کو ڈپٹی چیف منسٹر بنادیا گیا۔ اجیت پوار نے چاچا شرد پوار سے بغاوت کرتے ہوئے دیویندر فڈنویس کی تائید میں وہ مکتوب حوالہ کردیا جو اودھو ٹھاکرے کی تائید میں تیار کیا گیا تھا ۔ بی جے پی نے دستوری اور جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گورنر کے عہدہ کا بیجا استعمال کیا ہے۔ گورنر نے دیویندر فڈنویس کی تائید میں این سی پی ارکان کی تائید کا جائزہ لئے بغیر ہی مرکز کے حکم پر دیویندر فڈنویس کو حلف دلادیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سارا ڈرامہ صرف ایک رات کا ہے ؟ واقعات کا تسلسل دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ اس سلسلہ میں بی جے پی کئی دن سے خفیہ سرگرمیوں میں مصروف تھی ۔ اجیت پوار کو کسی نہ کسی طریقہ سے بغاوت کے لئے اکسانے کی کوشش کی گئی اور ہوسکتا ہے کہ گورنر بھی ان سرگرمیوں سے واقف تھے، یہی وجہ ہے کہ گورنر نے مہاراشٹرا کے باہر اپنا دورہ منسوخ کردیا تھا ۔ حلف برداری کے بعد اجیت پوار کے ساتھ موجود بعض این سی پی ارکان دوبارہ شرد پوار کے خیمہ میں واپس آگئے اور یہ بات واضح ہوگئی کہ دیویندر فڈنویس کے پاس درکار اکثریت نہیں ہیں۔ امیت شاہ اور نریندر مودی خاموش کہاں رہیں گے۔ اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے دن تک شیوسینا اور کانگریس میں پھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ دراصل بی جے پی تینوں جماعتوں کے اتحاد سے خوفزدہ ہوچکی تھی اور اسے پانچ برسوں تک اقتدار سے محرومی کا خوف ستا رہا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ راتوں رات سیاسی سرجیکل اسٹرائیک کردیا گیا ۔ اقتدار کی ہوس میں بی جے پی نے جمہوری اصولوں کو پامال کردیا۔ یہ وہ بی جے پی نہیں جب اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم تھے ، جنہوں نے اکثریت نہ ہونے پر وزیراعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ شائد اگر امیت شاہ اور مودی اس وقت موجود ہوتے تو وہ اپوزیشن میں انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کسی طرح حکومت کو گرنے سے بچالیتے۔ مرکز کے اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے بی جے پی نے این سی پی میں انحراف کی حوصلہ افزائی کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ اجیت پوار کو بی جے پی کی تائید کیلئے مقدمات کا خوف دلاکر بلیک میل کیا گیا۔ بی جے پی نے کسی طرح اپنی حکومت تو قائم کرلی لیکن اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنا آسان نہیں رہے گا۔ اندرون ایک ہفتہ بی جے پی کو 30 سے زائد ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کرنی ہوگی۔ اقتدار اور کرسی کیلئے بی جے پی کا یہ سرجیکل اسٹرائیک اپوزیشن کیلئے عوام میں ہمدردی کی لہر پیدا کرسکتا ہے۔ ان حالات میں کانگریس ، این سی پی اور شیوسینا سے مزید کسی انحراف کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ اجیت پوار نے موقع پرستانہ اتحاد کے ذریعہ رائے دہندوں کے فیصلہ کی توہین کی ہے۔ این سی پی کے جو ارکان بی جے پی کی تائید میں راج بھون پہنچے ، وہ انتخابات میں بی جے پی امیدواروں کے مقابلہ میں منتخب ہوئے ہیں۔ اب جبکہ وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں تو ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر بی جے پی سے اتحاد کے نام پر دوبارہ منتخب ہوکر دکھائیں۔ رائے دہندوں نے سیکولرازم کے نام پر ووٹ دیا تھا لیکن وہ جارحانہ فرقہ پرست پارٹی کے ساتھ ہوگئے۔ تشکیل حکومت کے سلسلہ میں کانگریس ابتداء ہی سے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی تھی۔ ایک تو شیوسینا کی تائید کے مسئلہ پر پارٹی میں اختلاف رائے تو دوسری طرف شرد پوار پر بھروسہ کرنے کا مسئلہ تھا۔ شیوسینا کے ساتھ تشکیل حکومت کی بات چیت جاری تھی تو دوسری طرف شرد پوار نے تنہا وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ کانگریس نے اس ملاقات پر ناراضگی ظاہر کی۔ اگرچہ شرد پوار نے کسانوں کے مسئلہ پر نمائندگی کا دعویٰ کیا لیکن اگر کسانوں کا مسئلہ ہوتا تو اپوزیشن کے وفد کے ساتھ ملاقات کرسکتے تھے ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مودی سے شرد پوار کی یہ ملاقات بی جے پی کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی اور امیت شاہ نے سرجیکل اسٹرائیک کے منصوبہ کو قطعیت دے دی۔ نریندر مودی نے این سی پی کو قریب کرنے کیلئے راجیہ سبھا میں این سی پی ارکان کے ڈسپلن کی تعریف کی۔ الغرض کئی ایسی درپردہ تبدیلیاں رونما ہوئیں جس کا نتیجہ سرجیکل اسٹریکل کی صورت میں سامنے آیا۔ کانگریس کو ابھی بھی یقین نہیں ہے کہ شرد پوار اپنے بھتیجے کی سرگرمیوں لا علم تھے۔ گزشتہ کئی دنوں سے شرد پوار تشکیل حکومت کے معاملہ کو طول دے رہے تھے۔ شیوسینا کے قائد سنجے راوت کا یہ ریمارک شرد پوار کی شخصیت کو سمجھنے کیلئے کافی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’پوار جی کو سمجھنے مجھے 100 جنم لگیں گے‘‘۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے ؎
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT