Saturday , December 5 2020

حاملہ صفورہ زرگر کی ضمانت نا منظور‘ دہلی فسادات”بھڑکانے والا“ کپل مشرا آزاد گھوم رہا ہے۔ ویڈیو

مذکورہ رپورٹ میں کہاگیا ہے”اس طرح کے جرائم میں ملزم بنی حاملہ قیدی کے لئے کوئی استثنا نہیں ہے‘ تاکہ اس کو حمل کی وجہہ سے ضمانت پر رہا کیا جائے“
نئی دہلی۔ پچھلے دس سالوں میں دہلی کی تہاڑ جیل میں 39بچوں کے جنم لینے کی بات پر زوردیتے ہوئے دہلی پولیس نے صفورہ زرگر کی درخواست ضمانت کو پھر ایک مرتبہ نامنظورکروادیا جس کی پہل حمل کی بنیاد پر ہوئی تھی۔جامعہ کوارڈنیشن کمیٹی کی ایک رکن زرگر کو 10اپریل کے روز شہریت ترمیمی قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے پر گرفتارکرلیاگیاتھا۔

شہریت ترمیمی ایکٹ نے قومی اورعالمی سطح پر بہت سارے احتجاجی مظاہروں کو جنم دیاتھا۔چارماہ کی حاملہ ایم فل اسٹوڈنٹس پر یواے پی اے‘ مخالف دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیاگیاہے۔

دہلی پولیس نے اپنی موقوفہ رپورٹ جو دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی ہے اس میں کہا ہے کہ صفورہ کے مبینہ گھناؤنے جرم حقیقت کو ان کے حمل سے ملایانہیں جاسکتا ہے۔اور انہیں جیل میں بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔

دہلی پولیس کی جانب سے عدالت میں داخل کی گئی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ”اس طرح کے جرائم میں ملزم بنی حاملہ قیدی کے لئے کوئی استثنا نہیں ہے‘ تاکہ اس کو حمل کی وجہہ سے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ اس کے برعکس قانون کے تحت انہیں تحویل کے دوران بہتر طبی سہولتیں اور تحفظ فراہم کیاجارہا ہے“۔

سپریم کورٹ کی جنب سے دئے گئے ہدایتوں کے مطابق حاملہ عورتوں کو قید میں جو سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں‘ وہ انہیں بھی فراہم کی جارہی ہیں“۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ”بڑی احترام کے ساتھ یہ بات پیش کی جارہی ہے کہ دہلی کے اندر پچھلے 10سالوں میں 39بچے تولد ہوئے ہیں“اور مزید کہاگیا ہے کہ جب قانون خود اس طرح کے مجرموں کے خلاف ترجیح سلوک کی اجازت نہیں دیتا ہے تو زرگرکے لئے ایسا کیو ں کیاجانا چاہئے۔

زرگر نے احتجاجی مظاہروں کی درخواست کی ہے
اسپیشل سل ڈی سی پی پی ایس کشواہا کی مذکورہ رپورٹ کہتی ہے”زرگر کی سرگرمیوں کی وجہہ سے بڑے پیمانے پر جانی او رمالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے“۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ”زرگر کو علیحدہ سل میں رکھا گیاہے‘ وہ تنہا ہیں اور یومیہ اساس پر ڈاکٹر کی جانچ ہوتی ہے‘ اس کے علاوہ درکار کھانا اور ادوایات بھی انہیں دئے جارہے ہیں“۔

رپورٹ میں سختی کے ساتھ ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہاگیا کہ”درحقیقت‘ جیل میں زیادہ سے زیادہ احتیاط ان کے ساتھ برتی جارہی ہے‘ جو جیل کے باہر انہیں سماجی دوری کے متعلق دستیاب ہے“۔

جہاں تک ایف ائی آرمیں سوالات کھڑا کئے گئے ہیں‘ مذکورہ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ”صفورہ زرگر کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھانے اور جمہوری حکومت کو گرانے کی سازش کرنے پر مشتمل کافی الکٹرانک شواہد یہاں پر موجود ہیں۔

صفورہ نے سی اے اے او راین آرسی سے دستبرداری اختیار کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنے اور دیگر قسم کے احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

اس سے قبل4جون کے روز زرگر کی ضمانت کی عارضی کو سنوائی کرنے والی عدالت نے نامنظور کیاتھا اور ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کو کہاتھا۔

نفرت پھیلانے والا مشرا شکار ہونے کا کارڈ کھیل رہا ہے
ان دنوں جب ملک بھر میں مخالف سی ا ے اے احتجاج چل رہاتھا‘ کپل مشرا‘بی جے پی کا ایک لیڈر موافق سی اے اے ریالی نارتھ ایسٹ دہلی کے جعفر آباد علاقے میں نکالی تھی۔

ریالی کے دوران اس نے دہلی پولیس کو ”تین دن‘’کی مہلت دی تھی کہ وہ مخالف سی اے اے مظاہرین کو سڑک سے ہٹائیں۔ پھر اس نے ٹوئٹر کے ذریعہ لوگوں سے کہاتھا کہ وہ جعفر آباد میٹرو اسٹیشن کے قریب کے جگہ پر ”ایک اور شاہین باغ بننے“ سے روکنے کاکام کریں۔

پالیسیوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے اس ٹوئٹر نے مشرا کے اس ٹوئٹ کو ہٹادیاتھا۔ان کی مبینہ بھڑکاؤ تقریرنے موافق او رمخالف سی اے اے مظاہرین کو اکسانے کاکام کیاتھا۔

مذکورہ فرقہ وارانہ تصادم نے 53لوگوں کی جان لی او رکئی لوگوں کو زخمی کیاہے۔ احتجاج کے پیش نظر مشرا نے شکار بنائے جانے کا کارڈ کھیلا۔بی جے پی کے کچھ قائدین جنھوں نے مشرا کے خلاف بات کی تھی وہ ”اکیلے“ پڑگئے اور مشرا نے دعوی کیاہے کہ ان کے خلاف ایک سازش کی جارہی تھی۔

گولی مار کے نعروں پر انعام
مشر ا جس نے پچھلے سال بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی کو ”گولی ماروسالوں کو“ کا نعرہ متعارف کروانے پر انعامات سے نوازا گیاتھا۔ اس کو بی جے پی کے ٹکٹ کے انعام سے نوازا گیاتھا‘ مگر وہ عام آدمی پارٹی کے اکھلیش پٹیل ترپاٹھی کے سامنے 11,000ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا

دہلی پولیس نے مشرا کو مید ان میں اترا
دہلی پولیس نے دہلی فسادات کی ایک ”کرونالوجی“ تیار کی تھی اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ مشرا کی نفرت پر مشتمل تقریر کو ہدف کرکے بی جے پی لیڈ ر کو کلین چٹ دیدی۔

اس کے برعکس صفورہ زرگرکو محض اس لئے گرفتار کیاگیاتھا اس نے چند ایک احتجاجی مظاہرے منعقد کئے ہیں اور اس حقیقت کے باوجود کے وہ چار ماہ کی حاملہ ہے اور پی سی او ایس کا شکار ہے اور جس سے حمل ساقط ہوسکتا ہے اس کی ضمانت میں رکاوٹیں کھڑے کرنے کا دہلی پولیس مسلسل کام کررہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT