دہلی میں غیر معلنہ ایمرجنسی

   

ہم ایسے محوِ تماشا نہ تھے کہ ہوش آتا!
مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا
جس طرح سے توقع کی جا رہی تھی کہ دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کی جانب سے گیانیش کمار کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے عوامی احتجاج کو کچلا جائے گا اسی طرح سے دہلی پولیس نے صبر و تحمل کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے دارالحکومت دہلی کو ایک طرح سے غیر معلنہ ایمرجنسی والا علاقہ بنادیا ہے اور وہاں پہونچنے والے ہر شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اسے حراست میں لینے سے گریز نہیں کیا گیا ہے ۔ سی جے پی کی جانب سے معلنہ احتجاج پر دہلی کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں سکیوریٹی دستوں کو متعین کرتے ہوئے احتجاج کو کچلنے اور ناکام بنانے کی کوشش کی گئی تاہم ہزاروں کی تعداد میں احتجاجی پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کے باوجود دہلی کی سڑکوں پر اتر آئے اور انہوں نے اپنے جمہوری حق کیلئے آواز اٹھائی اور صدائے احتجاج بلند کیا ۔ دہلی پولیس کی جانب سے مرکزی حکومت کی ہدایت پر جو کارروائیاں انجام دی گئی ہیں وہ غیر معلنہ ایمرجنسی جیسی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ سیاسی قائدین ہوں یا سپریم کورٹ اورہائیکورٹ کے وکلا ہوں ‘ سماجی جہد کار ہوں یا سیول سوسائیٹی کے نمائندے ہوں ‘ طلباء قائدین ہوں یا پھر میڈیا اہلکار ہی کیوں نہ ہوں سبھی کو ایک لاٹھی سے ہانکتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا گیا ۔ مزاحمت کرنے والوں کو مارپیٹ کرنے اور سڑکوں پر گھیسٹنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا اور انہیں بسوں میں بھرتے ہوئے منتقل کردیا گیا ۔ سارے جنتر منتر ‘ کناٹ پیلس علاقہ اور آس پاس کے علاقوں کو عملا میدان جنگ میں تبدیل کردیا گیا ۔ طلباء اورنوجوان ‘ وکلا اور جہد کار ‘ سیاسی قائدین اور صحافی کوئی بھی ہوں پولیس نے سبھی کو حراست میں لیا اور کسی کو بھی احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی ۔ دہلی پولیس کی جانب سے اس طرح کی کارروائیاں عوام کو جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہیں کیونکہ پرامن احتجاج کا حق ہمارے دستور نے دیا ہے اور پولیس اور حکومت اسی حق کو ختم کرنا اور دبانا اور کچلنا چاہتی ہے جو قابل قبول نہیں ہوسکتا ۔
سابق چیف منسٹروں کو بھی پولیس کی جانب سے نہیں بخشا گیا ۔ مغربی بنگال کی سابق چیف منسٹر ممتابنرجی ‘ کیرالا کے سابق چیف منسٹر پی وجئین ‘ دہلی کے سابق چیف منسٹر اروند کجریوال ‘ دہلی کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا اور کئی ارکان پارلیمنٹ ‘ خاتون سیاسی قائدین کے ساتھ بھی دھکم پیل کی گئی ۔ سی پی آئی ایم جیسی قومی جماعت کے دفتر میں پولیس نے گھس کر وہاں سے بھی سیاسی قائدین کو حراست میں لینے کی کوشش کی گئی ۔ یہ ساری صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ محض ایک گیانیش کمار کو بچانے کیلئے حکومت کی جانب سے طاقت کا بیجا استعمال کیا جا رہا ہے اور سارے شہر دہلی کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کرتے ہوئے عملا پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے اور عوام کو کہیں بھی آنے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ دہلی پہونچنے والی ٹرینوں کو روک دیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے اعتراض کے باوجود دہلی کے 45 میٹرو اسٹیشن بند کردئے گئے ۔ احتجاج کا اعلان کرنے والی سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے ان کے ساتھیوں سورو داس اور آشوتوش رانکا کو ممبئی سے آمد کے فوری بعد طیارہ کے اندر گھس کر گرفتار کرلیا گیا ۔ انہیں کہاں رکھا گیا ہے اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ سابق چیف منسٹروں کو حراست میں لے کر بسوں میں سارے شہر میں گھمایا جاتا رہا ۔ اس ساری صورتحال میں محض ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مرکزی حکومت خوف کا شکار ہوگئی ہے اور وہ اسی خوف میں کارروائیاں کر رہی ہے ۔
سی جے پی ‘ دوسری طلباء تنظیموں ‘ جہد کاروں اور سیول سوسائیٹی تنظیموں کی جانب سے بارہا اعلان کیا گیا کہ ان کا احتجاج پرامن رہے گا ۔ اس کے باوجود احتجاج کے حق سے محروم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ احتجاجیوں نے بھی اپنے عزم اور حوصلے کو برقرار رکھا اور وہ بھی احتجاج کرتے رہے ۔ مرکزی حکومت کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہئے کہ ملک کے عوام اور خاص طور پر نوجوان اب کسی طاقت سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں اور وہ اپنے جمہوری اور دستوری حق کیلئے جدوجہد کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
کمرتوڑ مہنگائی اور عوام کی مشکلات
ہندوستان بھر میں مہنگائی اپنے عروج پر پہونچ رہی ہے ۔ قیمتوں پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں رہ گیا ہے اور خاص طور پر حکومت تو اس معاملے میں پوری طرح سے بے حس نظر آ رہی ہے اور معاشی صورتحال دن بدن ابتر ہونے لگی ہے ۔ ہندوستان بھر کے عوام اس کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہیں ۔ صورتحال اس قدر ابتر ہوگئی ہے کہ عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے ۔ جہاں چاول کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں وہیں تیل کی قیمتیں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔ ترکاریاں تک بھی عوام کی رسائی سے باہر ہونے لگی ہیں۔ عوام کی جیبیوں پر مسلسل مہنگائی کا ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ۔ عوام مسلسل مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں تاہم مرکزی حکومت اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں ہے ۔ وہ صرف اپنے اقتدار کو بچانے کی جدوجہد میں مصروف دکھائی دے رہی ہے ۔ عوام کو مہنگائی کی مار کھانے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو مشکلات اور پریشانیوں سے بچایا جاسکے ۔ انہیں مہنگائی سے راحت دینے کیلئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ قیمتوں پر قابو پانے کیلئے ایک موثر پالیسی بنائی جانی چاہئے اور عوام کو راحت پہونچائی جانی چاہئے ۔