ریاست تلنگانہ ڈینگو اور موسمی بخار کی لپیٹ میں

   

پانچ لاکھ سے زائد متاثرین، ڈینگو کے کیسس 3000 کے پار اور 2 اموت
حیدرآباد۔2 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں مانسون کے بعد موسمی بیماریوں بالخصوص ڈینگو نے بھیانک شکل اختیار کرلی۔ گریٹر حیدرآباد کے علاوہ اضلاع ، رنگا ریڈی ، میڑچل ، ملکاجگری کے ساتھ ساتھ ایجنسی کے علاقوں بھدرادری، کتہ گوڑم اور ملگ میں ڈینگو کے کیسس میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ ریاست میں ڈینگو کی وباء کے باعث اب تک دو افراد کی موت واقع ہوچکی ہے جس نے محکمہ صحت اور عام شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مانسون کے آغاز سے شروع کئے گئے خصوصی فیور سروے کے دوران اب تک ریاست بھر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بخار میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ ان میں تین ہزار سے زائد ڈینگو کے کنفرم کیسس شامل ہیں جبکہ ٹائیفڈ کے کیسس بھی پانچ ہزار تک پہنچ چکے ہیں۔ گاندھی ہاسپٹل میں شریک جملہ مریضوں میں سے 20 فیصد سے زائد صرف بخار کے شکار ہیں جبکہ ورنگل کے ایم جی ایم ہاسپٹل اور حیدرآباد کے مشہور فیور ہاسپٹل کی او پی ڈی میں روزانہ آنے والے مریضوںکی تعداد 400 سے بڑھ کر 600 سے تجاوز کرگئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست تک ڈینگو کیسس کی تعداد سینکڑوں میں تھی جو ستمبر میں ہزاروں تک جاپہنچی۔ ڈینگو کی علامت کے ساتھ آنے والے مریضوں کا پلیٹ لیٹ کاؤنٹ جو پہلے دن ایک لاکھ 20 ہزار ہوتا ہے ، شدید انفیکشن کی وجہ سے محض چار دنوں کے اندر خطرناک حد تک گرکر 20 ہزار سے 30 ہزار تک پہنچ رہا ہے۔ حیدرآباد فیور ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر موسیٰ خان نے شہریوں کو شدید بیداری اور علاج کی تاکید کرتے ہوئے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈینگو بخار سے بچاؤ کے لئے مچھر کے کاٹنے سے بچنا سب سے بنیادی تدبیر ہے۔ شہریوں کو ہر جمعہ کو باقاعدگی سے ڈرائی ڈے کے طورپر منانا چاہئے اور اپنے گھروں کے اطراف واکناف پانی کھڑا ہونے نہیں دینا چاہئے کیونکہ ڈینگو کا مچھر صاف ٹھہرے ہوئے پانی میں ہی اپنے لاروا پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کو شدید پیٹ درد ، کھانسی ، بخار ، سر درد ، جسم پر خارج یا اندرونی خون بہنے جیسی علامت محسوس ہوں تو یہ شدید خطرہ کی علامت ہیں۔ ایسے میں فوری ڈاکٹرس سے رجوع ہوں۔ صرف ابلا ہوا اور فلٹر شدہ پانی پئیں اور مقوی غذائیں استعمال کریں۔2/k