سینئر صحافی کلیم الرحمن کی کتاب ’’مینار تلنگانہ ٹی ہریش راؤ‘‘ کی عنقریب چیف منسٹر کے ہاتھوں اجرائی
سدی پیٹ۔ 11 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی وزیر خزانہ و صحت مسٹر ٹی ہریش راؤ 2014 کے بعد سے سدی پیٹ کو ترقی و خوشحالی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ہر لحاظ سے مذہب و ملت رنگ و نسل ذات پات انہوں نے عوام کی ترقی کے لئے بے شمار اقدامات کئے اور سدی پیٹ کو ملک بھر میں ایک مثالی ضلع بنا دیا ہے۔ سدی پیٹ ضلع کے سینئر صحافی اور روزنامہ سیاست کے نامہ نگار کلیم الرحمن نے ’’مینار تلنگانہ ٹی ہریش راؤ‘‘ کے زیر عنوان ایک کتاب 180 صفحات پر تحریر کی ہے جس میں انہوں نے سدی پیٹ کی ترقی کے لئے ریاستی وزیر ہریش راؤ کی غیر معمولی کاوشوں کا احاطہ کیا ہے۔ اپنی کتاب میں فاضل مصنف نے سدی پیٹ کے آبپاشی پراجکٹس، اسکولس و کالجس اور اعلیٰ تعلیمی اداروں، تفریحی مقامات، سڑکوں کی تعمیر، سرکاری دفاتر اور ان کی پرشکوہ عمارتوں، کھیل کود کے فروغ، اسپتالوں، ڈائلاسیس سنٹرس، ویل نیس اسپتال، رنگا نائک ساگر، ملنا ساگر پراجکٹس، زیر زمین ڈرینیج نظام، اقلیتی طلباء و طالبات کی مالی مدد، اقلیتی اقامتی تعلیمی اداروں کے قیام، والنٹری سائیکلنگ پلانٹ، غریب و متوسط خاندانوں کے لئے ڈبل بیڈروم مکانات، عوام کو غیر معمولی طبی سہولتوں کی فراہمی، کسانوں کی مالی اعانت کا معہ تصاویر جائزہ لیا ہے۔ موصوف نے اپنی کتاب میں ہندو مسلم رہنماؤں، وکلاء، انجینئرس، ڈاکٹرس، ماہرین تعلیم، ٹی آر ایس و کانگریس اور مجلس قائدین کے ساتھ ہریش راؤ کی مثالی خدمات کے تئیں تمام لوگوں کے تاثرات بھی پیش کئے۔ اس کتاب میں سدی پیٹ کا دورہ کرنے والے مختلف اضلاع کی شخصیتوں کے تاثرات بھی قلمبند کئے گئے۔ اس کے علاوہ سرکاری محکمہ جات اس کے عہدیداران کے بھی معلومات فراہم کئے ہیں۔ جناب کلیم الدین کی یہ دوسری تصنیف ہے جس کی عنقریب چیف منسٹر کے سی آر کے ہاتھوں رسم اجرا عمل میں آئے گی۔ اس سے پہلے انہوں نے کے سی آر اور ہریش راؤ کی علیحدہ تلنگانہ سے متعلق جدوجہد اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاست کی مثالی ترقی کو اجاگر کرنے والی کتاب ’’سیاسی افق کا روشن ستارہ‘‘ تحریر کی تھی جس کی رسم اجرا خود چیف منسٹر کے سی آر نے انجام دی تھی۔ واضح رہے کہ اس کتاب کا پیش لفظ ملک کے ممتاز صحافی و نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے لکھا ہے۔ کتاب میں مسلم شادی خانہ کی تعمیر سے متعلق بانی سیاست جناب عابد علی خاں صاحب مرحوم اور اقبال مینار کی تعمیر سے متعلق ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں صاحب کی تجویز کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور مسلم شادی خانہ کا سنگ بنیاد جناب عابد علی خاں صاحب مرحوم نے رکھا تھا جبکہ اقبال مینار کی رونمائی جناب زاہد علی خاں صاحب نے انجام دی تھی۔