چمن سے رخصتِ فانی قریب ہے شاید
کہ اب کے بوئے کفن دامنِ بہار میں ہے
مرکزی وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان کے استعفے نے سارے ملک میں طلباء کی طاقت کو منوالیا ہے ۔ جس وقت 20 جون کو جنتر منتر پر طلباء کی جانب سے دھرنے کا آغاز ہوا تھا اس وقت کسی نے بھی شائد یہ گمان بھی نہیں کیا تھا کہ یہ احتجاج ایک قومی تحریک بن جائے گا اور حکومت کو اس کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔ طلباء کی حمایت کیلئے جو لوگ میدان میں آئے تھے شائد انہیں بھی اس احتجاج کی طاقت کا اندازہ نہیں تھا ۔ اس کے ساتھ ہی قائد اپوزیشن راہول گاندھی بھی طلباء کے حقوق کیلئے ’’ چھاتروں کی گونج ‘‘ پروگرام شروع کرچکے تھے اور انہوں نے کوٹہ راجستھان اور پھر دہرہ دون میں طلباء سے ملاقات کرتے ہوئے ان کو طاقت بخشی تھی ۔ ان کے مسائل کی سماعت کی تھی ۔ انہیں اپنے مسائل پیش کرنے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا تھا ۔ مسلسل کاوشوں اور کئی گوشوں سے جدوجہد نے پھر طلباء کے احتجاج کو ایک نئی جیت بخشی تھی ۔ یہ احتجاج جو چند سو طلباء نے شروع کیا تھا تقریبا 25دنوں تک عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا تاہم جب طلباء نے 20 جولائی کو چلو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا تو حکومت کو اس تعلق سے حرکت میں آنا پڑا ۔ حکومت نے 18 جولائی کو ماحولیاتی جہد کار سونم وانگ چوک کو زبردست دواخانہ منتقل کردیا جو بھوک ہڑتال پر تھے ۔ ان ساتھ تین طلباء بھی مسلسل 23 دن بھوک ہڑتال پر رہے تھے ۔ جہاں میڈیا نے اس احتجاج کی تشہیر نہ کرنے کی مجرمانہ غلطی کی تھی اس کے باوجود سوشیل میڈیا نے یہ کمی کو اس حد تک پورا کردیا کہ اب شائد کسی کو بھی میڈیا کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور خاص طور پر گودی میڈیا کے تعلق سے عوام میں جو ناراضگی اور برہمی پائی جاتی ہے وہ بھی سارے ملک نے دیکھا ہے ۔ چند سیکنڈز کی ریل نے خود کو قو می میڈیا قرار دینے والوں سے زیادہ تشہیر فراہم کی اور ملک بھر میں اس تعلق سے جو جوش و خروش پیدا کیا تھا وہ غیر معمولی تھا ۔نام نہاد قومی میڈیا اس معاملے میں منہ کی کھانے پر مجبور ہوگیا اور نوجوانوں نے اپنے کام کردکھایا ۔
یہ نوجوانوں کی ہی کی طاقت تھی کہ قومی میڈیا کی مجرمانہ لاپرواہی کے باوجود محض سوشیل میڈیا نے سارے ملک کو ایک آواز کردیا تھا ۔ انسٹا گرام پر ریل بنانے اور ریل دیکھنے کے جنون نے نام نہاد قومی میڈیا کی اہمیت کو تقریبا ختم کرکے رکھ دیا ہے ۔ جہاں تک طلباء کے اصل مطالبہ کی بات ہے کہ دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونا چاہئے وہ بھی حکومت کو بالآخر ماننا ہی پڑا ۔ اس سارے احتجاج میں یقینی طور پر طلباء کا مرکزی کردار رہا ہے اور انہوں نے اپنی طاقت کا حکومت سے بھی لوہا منوالیا ہے ۔ تاہم یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ جس وقت سے راہول گاندھی نے اس احتجاج کو آواز دی اس وقت سے حکومت کی راتوں کی نیند اڑ گئی تھی ۔ وزیر اعظم نصف شب کو ویڈیو بنانے پر مجبور ہوگئے تھے جبکہ وہ ایک ماہ سے زیادہ وقت سے کسی طرح کا رد عمل ہی نہیں دے رہے تھے ۔ راہول گاندھی جس وقت وزیر اعظم کی قیامگاہ پرا حتجاج کیلئے پہونچ گئے تھے وہ ایک ایسا مرحلہ تھا جس نے حکومت کو اس جانب پوری سنجیدگی سے توجہ دینے پر مجبور کردیا تھا ۔ جس وقت طلباء قائدین راہول گاندھی کے گھر پہونچے اور مذاکرات کے بعد ان کے ساتھ پریس کانفرنس کی تو پھر حکومت کو شائد یہ احساس ہوگیا تھا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کو شائد اب ٹالا نہیں جاسکے گا ورنہ احتجاج مزید شدت اختیار کرسکتا ہے جو ویسے بھی ملک کے دوسرے کئی شہروں میں پھیل گیا تھا اور شدت اختیار کر رہا تھا ۔
ویسے تو ہندوستان میں طلباء کی طاقت سے ہر کوئی واقف ہے اور اس کا معترف بھی ہے تاہم مودی حکومت کو گمان تھا کہ اس کی طاقت طلباء سے زیادہ ہے اور اسے کسی کے آگے جھکنا نہیں پڑے گا ۔ لیکن طلباء نے یہ حقیقت منوالی کہ ان کی طاقت ہی اصل ہے اور وہ جس کو چاہیں اقتدار پر فائز کرسکتے ہیں اور جس کو چاہیں اقتدار سے بیدخل بھی کرسکتے ہیں۔ طلباء کو اپنی طاقت کا ملک کی بہتری اور روشن مستقبل کیلئے استعمال کرنا چاہئے ۔ پرامن احتجاج کے ذریعہ ہر مطالبہ منوایا جاسکتا ہے یہ بات طلباء نے ثابت کردی ہے ۔