کمیشن نے بینک کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ جائیداد کے ریکارڈ سے رہن (مارگیج) کے اندراج کو فوری طور پر ہٹائے۔
حیدرآباد: یہاں ایک کنزیومر کمیشن (صارفین کے تنازعات کے حل کے کمیشن) نے تلنگانہ دیہی بینک کو حکم دیا ہے کہ وہ شہر کے ایک رہائشی کو 39.75 لاکھ روپے ادا کرے۔ مذکورہ شہری نے اپنا قرض برسوں پہلے ادا کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود اس کا گھر بینک کے پاس رہن (مارگیج) کے طور پر درج تھا۔
حیدرآباد ڈسٹرکٹ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن-II نے جائیداد کے سرکاری ریکارڈ سے رہن کے اندراج کو نہ ہٹانے پر بینک کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ کمیشن نے 795 دنوں کے لیے یومیہ 5,000 روپے کے حساب سے ہرجانہ مقرر کیا، جس کے ساتھ 9 فیصد سود بھی شامل ہے۔
بینک کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ شکایت کنندہ کو ذہنی اذیت پہنچانے کے عوض 50,000 روپے اور قانونی کارروائی کے اخراجات کی مد میں 5,000 روپے ادا کرے۔ اس کے علاوہ، بینک کو حکم دیا گیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے رہن (مارگیج) کے اندراج کو منسوخ کرے۔
سعید آباد کے رہائشی، شکایت کنندہ ایم رام ریڈی نے 2013 میں اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے بینک کی سرور نگر برانچ سے 8 لاکھ روپے کا تعلیمی قرض لیا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے گھر کی ملکیت کی دستاویزات بطور ضمانت بینک کے پاس رکھوائی تھیں۔
انہوں نے ستمبر 2016 تک سود سمیت پورا قرض ادا کر دیا۔
بینک نے اصل دستاویزات تو واپس کر دیں، لیکن سب رجسٹرار کے دفتر میں وہ نوٹس اور ‘ریلیز ڈیڈ’ (رہن ختم کرنے کی دستاویز) جمع نہیں کرائی، جو رجسٹریشن ریکارڈ سے رہن کے اندراج کو منسوخ کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
گھر کی فروخت میں رکاوٹ
ریڈی کو 2018 میں اس کوتاہی کا علم ہوا، جب انہوں نے اپنا گھر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جو ‘انکمبرینس سرٹیفکیٹ’ (EC) حاصل کیا، اس میں جائیداد اب بھی تلنگانہ دیہی بینک کے پاس رہن کے طور پر ظاہر ہو رہی تھی۔
ریکارڈ میں اس اندراج کی موجودگی کی وجہ سے وہ گھر فروخت نہیں کر سکے۔ اس کے بعد انہوں نے کنزیومر کمیشن سے رجوع کیا اور ہرجانے کے ساتھ ساتھ ریکارڈ سے رہن کا اندراج ہٹانے کی درخواست کی۔
کمیشن نے بینک کو اس بات کا قصوروار پایا کہ اس نے قرض کا کھاتہ بند ہونے کے بعد ضروری کاغذی کارروائی مکمل نہیں کی۔
تلنگانہ دیہی بینک ایک علاقائی دیہی بینک ہے جسے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔