محکمہ تعلیم میں سنٹر لائزڈ لوٹ مار نظام ۔ داسوجو شراون

   

چھوٹے تاجروں ، ہینڈلوم ورکرس کیلئے موت کا پروانہ ، بی آر ایس کا شدید حملہ
حیدرآباد ۔ 7 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ایم ایل سی ڈاکٹر داسوجو شراون نے تلنگانہ کے محکمہ تعلیم میں خریداری کے موجودہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’ سنٹر لائزڈ لوٹ مار کا منصوبہ ‘ لانے کا الزام عائد کیا ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شراون کمار نے کہا کہ ماضی میں محکمہ تعلیم میں خریداری کا نظام ڈی سنٹر لائزڈ تھا جس کو ختم کرتے ہوئے چھوٹے تاجروں اور ہینڈلوم ورکرس کو معاشی طور پر قتل عام کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اضلاع سطح پر ٹنڈرس طلب کئے جاتے تھے ۔ جس سے مقامی MSMEs ، پدما شالی خاندانوں ، ٹیلرس اور چھوٹی صنعتوں کو روزگار ملتا تھا ۔ اب سنٹر لائزڈ نظام سے یہ تمام طبقات بے روزگار ہوجائیں گے ۔ داسوجو شراون نے الزام لگایا کہ پراجکٹ مانٹیرنگ یونٹ کا قیام صرف کمیشن کے حصول اور پسندیدہ کمپنیوں کو ہزاروں کروڑ روپئے کے کنٹراکٹ دینے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے ۔ جس پر براہ راست چیف منسٹر آفس کا کنٹرول ہے ۔ ٹنڈر کی اہلیت کیلئے 150 سے 250 کروڑ روپئے کے ٹرن اوور کی شرط رکھی گئی ہے تاکہ مقامی چھوٹے تاجر اس عمل سے باہر ہوجائے اور صرف بڑی کمپنیوں کو فائدہ پہونچے ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ٹنڈرس میں نہ تو اشیاء کے ڈیزائن کی تفصیلات دی گئی ہیں اور نہ ہی کوئی بنیاد قیمت طئے کی گئی ہے جو کہ من مانی قیمتیں وصول کرنے کی کھلی چھوٹ ہے ۔۔ 2/m/b
داسوجو شراون نے انتباہ دیا کہ نان کیڈر آفیسر کے ذریعہ چلایا جانے والا یہ مشکوک نظام ریاست کے تعلیمی ڈھانچے اور مقامی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا ۔۔ 2/m/b