غیر جانبدارانہ تحقیقات اور 50 لاکھ ایکس گریشیا کا مطالبہ، اسد اویسی میدک کے بجائے راجستھان پہنچے: محمد علی شبیر
حیدرآباد۔/19 فروری، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے میدک ضلع میں پولیس کی اذیت رسانی اور مسلسل پانچ دن تک مار پیٹ سے مسلم نوجوان محمد عبدالقدیر خاں کی ہلاکت پر غم و غصہ کا اظہار کیا اور وزیر داخلہ محمد محمود علی کی خاموشی پر سوال اٹھائے۔ محمد علی شبیر نے واقعہ کی غیرجانبدارانہ جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل اور اذیت رسانی کے ذمہ دار پولیس عہدیداروں کو قتل کی دفعات کے تحت فوری گرفتار کرنے اور پسماندگان کو 50 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار واقعہ کی پردہ پوشی کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی کی خاموشی معنیٰ خیز ہے۔ انہوں نے اس واقعہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی پولیس عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کی فرینڈلی پولیسنگ کا مطلب بے قصور نوجوانوں کو لاک اپ میں ہلاک کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ نے پولیس کی کارکردگی پر کئی سوال کھڑے کئے۔ قدیر خاں کو پرانے شہر حیدرآباد کے یاقوت پورہ علاقہ سے اٹھایا گیا اور پانچ دن تک پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی طریقہ پر محروس رکھتے ہوئے بری طرح مار پیٹ کی گئی۔ جسم کے کئی حصوں میں فریکچر کا کوئی علاج نہیں کرایا گیا۔ سوشیل میڈیا میں اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد اعلیٰ عہدیدار حقائق کی پردہ پوشی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ لاک اپ ہلاکتوں اور اذیت رسانی کا مرکز بن چکا ہے۔ بھونگیر ضلع میں دلت خاتون مریماں اور ان کے فرزند ادئے کرن کو پولیس لاک اپ میں اذیت دی گئی اور گذشتہ سال جولائی میں مریماں کی علاج کے دوران موت واقع ہوئی۔ سوریا پیٹ اور کھمم میں بھی پولیس اذیت رسانی سے دو اموات واقع ہوئی ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ایک بھی واقعہ پر افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ محمد علی شبیر نے مجلس کے صدر اسد اویسی کی جانب سے کے سی آر حکومت کی تائید پر تنقید کی اور کہا کہ پولیس نے پرانے شہر کے علاقہ یاقوت پورہ سے اٹھایا گیا جو حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کا حصہ ہے۔ صدر مجلس میدک میں قدیر خاں کے خاندان سے ملاقات کے بجائے راجستھان میں مسلم نوجوانوں کے افراد خاندان سے ملاقات کیلئے پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی راجستھان واقعہ کی بھی مذمت کرتی ہے لیکن اسد اویسی کو گاندھی ہاسپٹل پہنچ کر قدیر خاں کی عیادت کرنی چاہیئے تھی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اسد اویسی مسلمانوں پر مظالم کے باوجود کے سی آر حکومت کی تائید کررہے ہیں۔ر