حیدرآباد۔ 20 ستمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان سید نظام الدین نے بی آر ایس قائدین کو چیالنج کیا کہ سکشن 22A کے تحت ایسی اراضات اور جائیدادیں جنہیں غیر قانونی طور پر ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان کی تفصیلات جاری کریں تاکہ حکومت ان کی یکسوئی کرسکے۔ گاندھی بھون میں صدر حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی سید خالد سیف اللہ کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سید نظام الدین نے بی آر ایس قائدین کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ سکشن 22A کے بارے میں بی آر ایس قائدین عوام کو الجھن میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکشن 22A کی آڑ میں خانگی افراد کی جائیدادوں کو نشانہ بنانے کا الزام بے بنیاد ہے۔ بی آر ایس قائدین عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن قائدین سے کہا کہ وہ ضلع واری سطح پر ان کے دعوے کے مطابق غیر قانونی طریقہ سے ممنوعہ فہرست میں شامل کی گئیں اراضیات اور جائیدادوں کی تفصیلات حکومت کو پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سکشن 22A ریونت ریڈی حکومت کی جانب سے متعارف نہیں کیا گیا بلکہ 2007 سے رجسٹریشن ایکٹ میں یہ دفعہ موجود ہے۔ بی آر ایس 10 برسوں تک اقتدار میں رہی اور اس نے بھی ممنوعہ فہرست کو برقرار رکھا۔ ڈسمبر 2023 میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد ممنوعہ فہرست میں 1.02 کروڑ ایکر اراضی موجود تھی۔ ریاستی اور مرکزی حکومت کی اراضیات کے علاوہ جنگلاتی اراضی، اسائنٹ اراضی، شکم اراضی، وقف اور انڈومنٹ اراضیات کے تحفظ کے لئے سکشن 22A کا استعمال کیا گیا۔ کانگریس حکومت نے سکشن 22A میں خامیوں کو دور کرنے کے لئے عہدیداروں کی اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2026 تک 47440 ایکر اراضی کو ممنوعہ فہرست سے ہٹا لیا گیا کیونکہ جانچ میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ فہرست میں شمولیت کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں ممنوعہ فہرست کے بارے میں عوام کو راحت دینے کی مساعی نہیں کی گئی۔ انہوں نے متاثرہ اراضی اور جائیدادوں کے مالکین پر زور دیا کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں بلکہ متعلقہ عہدیداروں کے پاس دوبارہ جانچ کے لئے درخواست داخل کریں۔ سرکاری ریکارڈ اور سروے نمبرات کی بنیاد پر تنازعات کی یکسوئی کی جائے گی۔ 1؍F