میں نہ ہوتا تو’ بی بی ‘ جیل میں ہوتے، اتنے ناشکرے نہ بنو،ہر شخص تم سے نفرت کرتا ہے
واشنگٹن : 2 جون ( ایجنسیز ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر جارحیت جاری رکھنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو پاگل شخص قرار دے دیا۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر سخت لہجے میں بات کی اور لبنان میں جارحیت جاری رکھنے پر وہ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ انتہائی بدزبانی سے پیش آئے۔ تلخ لہجے کا پس منظر بتاتے ہوئے امریکی نیوز ویب سائٹ نے تسلیم کیا کہ وجہ یہ تھی کہ ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہنے کی صورت میں امریکہ سے بات چیت روکنے کی دھمکی دیدی تھی۔ ویب سائٹ کے مطابق صدرٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو پاگل کیساتھ ساتھ ناشکرا بھی کہا۔ ساتھ ہی واضح کیا کہ بیروت پر حملے نہیں ہونے چاہیں اور خبردار کیا کہ اسرائیل نے یہ اقدام کیا تو وہ دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا۔ویب سائٹ کے مطابق امریکی صدر نے جتایا کہ انہوں نے کرپشن ٹرائل میں نیتن یاہو کو جیل سے باہر رکھنے میں کیسے مدد کی تھی۔بولے اگر میں نہ ہوتا توبی بی تم جیل میں ہوتے۔میں تمہاری کھال بچا رہا ہوں، ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے اور ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے۔نیوز ویب سائٹ کے مطابق دوران گفتگو صدر ٹرمپ ایک بار شدید طیش میں آکر چلا اٹھے کہ تم کیا احمقانہ کام کررہے ہو۔امریکی اہلکار نے نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے نزدیک نیتن یاہو جارحیت کو غیرمعمولی تناسب سیبڑھا رہے ہیں۔ٹرمپ کو تشویش ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں بڑی تعداد میں شہریوں کو قتل کیا ہے اور صرف ایک حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کی خاطر رہائشی عمارتوں پر عمارتیں تباہ کی جارہی ہیں۔جواب میں نیتن یاہو اوکے، اوکے کہتے رہے اور یہ کہ بس یہ یقینی بنائیں کہ ہر بات کا خیال رکھا جائے۔واضح رہے کہ ایران کی طرف سے امریکہ سے رابطے معطل کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ہنگامی رابطہ کیا تھا اور ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ٹرمپ کے مطابق اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔
اب اسرائیل کا کوئی فوجی دستہ بیروت نہیں جائے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، 2 جون (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ کال پر نتیجہ خیز بات ہوئی۔ ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ اب اسرائیل کا کوئی فوجی دستہ بیروت نہیں جائے گا اور اسرائیل کے جو بھی فوجی دستے راستے میں تھے وہ واپس لوٹ گئے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ اعلیٰ سطح نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ کیساتھ بھی اچھی بات چیت ہوئی، حزب اللہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تمام فائرنگ بند ہو جائے گی اسرائیل ان پر حملہ نہیں کرے گا اور وہ بھی نہیں کریں گے ۔ اس سے قبل این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی، ایرانی خاموشی پر کوئی اعتراض نہیں ہم انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کی معطلی سے متعلق ہمیں باقاعدہ مطلع نہیں کیا اور مذاکرات معطلی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم وہاں بمباری شروع کر دیں گے ۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور برقرار رکھی جائے گی۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے احتجاجاً امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے ۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حکام نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے ۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا امکان نہیں، اسرائیل اور اس کے حامیوں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور باب المندب سمیت دیگر تمام محاذ فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔