ووٹ چوری کیخلاف اپوزیشن متحد، گیانیش کمار کی برطرفی کا مطالبہ

,

   

مشترکہ پریس کانفرنس سے کھرگے، راہول، تیجسوی، ڈی راجہ اور دوسروں کا خطاب

نئی دہلی ۔13؍اکتوبر ( ایجنسیز ) انڈیا بلاک اور سیول سوسائٹی کے رہنماؤں نے ووٹ چوری کے الزامات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مشترکہ پریس کانفرنس کی شروعات کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی گزشتہ چار روز کی سرگرمیوں کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ ووٹ چوری کے منصوبے کو بے نقاب کرنے کیلئے تمام رہنما متحد ہیں۔ اپوزیشن نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور انتخابی بے ضابطگیوں میں ملوث حکام کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے اشارے پر انتخابی نظام کو متاثر کیا جا رہا ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما ڈی راجہ نے کہا کہ ملک بھر میں لوگ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے دستیاب نہ کرانے کے فیصلے پر اعتراض کیا۔ این سی پیکی لیڈر سپریا سولے نے کہا کہ انڈیا بلاک کی تمام جماعتیں ناانصافی کے خلاف مل کر لڑتی رہیں گی۔ سماجوادی پارٹی کے رہنما ہریندر ملک نے کہا کہ ان کی جماعت انڈیا بلاک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آخری دم تک انصاف کی لڑائی لڑے گی۔سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے الزام لگایا کہ احتجاجی تحریک کو دبانے کیلئے دہلی میں سخت اقدامات کیے گئے۔ ان کے مطابق احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے اور اس حق کو محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ترنمول کانگریس کی رہنما ساگریکا گھوش نے چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی، انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس میں شیوسینا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ طلبہ اور نوجوانوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ راہول گاندھی نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے اور خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے کے مطالبے پر ان کی تحریک جاری رہے گی اور اس میں چاہے ایک دن لگے یا 2 سال، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔