کھل نہیں سکتی شکایت کیلئے لیکن زباں
ہے خزاں کا رنگ بھی وجہہِ قیامِ گلستاں
پارلیمنٹ کے مانسون سشن کا اختتام عمل میں آگیا ۔ اس سشن کو پوری طرح سے ضائع کردیا گیا ہے اور جو پارلیمانی اقدار اور روایات رہی ہیں اور قانون سازی کا جو طریقہ کار ملک میں چلا آ رہا تھا اس کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ جس وقت سشن شروع ہو رہا تھا اس وقت یہ امید کی جا رہی تھی کہ سشن کے دوران اہمیت کے حامل مسائل پر مباحث ہونگے ۔ اپوزیشن کی جانب سے سوال کئے جائیں گے ۔ حکومت جواب دے گی ۔ جو کچھ بھی وضاحت کرنی ہوگی وہ کی جائے گی اور عوام کے ذہنوں میں جو سوال پیدا ہو رہے ہیں ان کو دور کرنے میں مدد ملے گی ۔ حکومت کی جانب سے اہم مسائل پر قانون سازی کی جائے گی ۔ا س کے بل ایوان میں پیش ہونگے اور ان بلز پر مباحث کئے جائیں گے ۔ اپوزیشن کی تجاویز کی سماعت کی جائے گی اور ان کی قواعد کے مطابق منظوری ہوگی تاہم اس بار مانسون سشن میںایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ محض ہنگامہ آرائی ہوتی رہی اور ایوان کی کارروائی کو بار بار ملتوی کرنا پڑا ہے ۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز سے ہی اپوزیشن کی جانب سے اہم مسائل کو موضوع بحث بناتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرنے کی کوشش کی گئی لیکن حکومت نے جو رویہ اختیار کیا اس کی وجہ سے کوئی مباحث نہیںہوسکے اور ہنگامہ آرائی کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا ۔ اپوزیشن نے سشن کے آغاز سے قبل ہی یہ واضح کردیا تھا کہ وہ نوجوانوں کے مسائل ‘ نیٹ پیپر لیک اور رام مندر چندہ چوری کے مسئلہ کو ایوان میں اٹھے گی لیکن حکومت نے اس کی قبل از وقت تیاری نہیں کیت ھی اور نہ ہی ان پر کوئی مباحث ممکن ہوسکے ۔ مانسون سشن کے آغاز کے دن جس طرح سے طلباء نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ ہاوس تک مارچ کی کوشش کی تھی اور اس دوران طلباء پر جو مظالم ڈھائے گئے تھے اور طاقت کا استعمال کیا گیا تھا اس کو بھی اپوزیشن نے موضوع بنایا اور وزیر داخلہ سے جواب طلب کیا گیا لیکن یہ جواب نہیں دیا گیا اور نہ اس مسئلہ پر ایوان میں مباحث ہوئے ۔ایوان کے کئی دن اور انتہائی قیمتی وقت پوری طرح سے ضائع کردیا گیا ہے ۔
ایوان میں صرف اینٹی پیپر لیک بل ہی ایسا رہا جسے باضابطہ پیش کیا گیا اور ان پر مباحث ہوئے ۔ مختلف جماعتوں کے قائدین نے اس پر اظہار خیال کیا اور اس بل کو بعد میں منظوری بھی مل گئی ۔ دیگر کئی بل حکومت کی جانب سے ایوان میں پیش کئے گئے تاہم شائد ہی کوئی بل ایسا ہو جس پر ایوان میں سیر حاصل مباحث کئے گئے ہوں۔ اپوزیشن نے اپنی رائے پیش کی ہو ۔ سبھی بلز کو ندائی ووٹ کے ذریعہ منظور کیا گیا ہے جو ہندوستان کی پارلیمانی روایت کے مغائر کہا جاسکتا ہے ۔ ہمارے ملک میں جو بھی قانون سازی ہوتی ہے اور بل ایوان میں منظور ہوتے ہیں ان پر مکمل مباحث کئے جاتے ہیںلیکن اس بارا یسا کچھ بھی نہیں ہوسکا ۔ اس بار سشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ایوان میں آنے سے گریز کرتے رہے ۔ پارلیمنٹ ہاوز پہونچنے کے باوجود وزیر داخلہ ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی اور گڑ بڑ کی وجہ سے وہ ایوان میں نہیں آئے جبکہ حکومت کے ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے انہیں ایوان میںپہونچ کر کارروائی کو پرسکون بنانے کا فریضہ ادا کرنا چاہئے تھا ۔ اپوزیشن کی جانب سے بارہا ان کی غیر حاضری کو مسئلہ بنایا جا رہا تھا لیکن وزیر داخلہ مسلسل ایوان سے غیر حاضر رہے اور خود وزیر اعظم بھی ایوان میں دکھائی نہیںدئے ۔
مانسون سشن کے اختتام سے ایک دن قبل وزیر داخلہ میڈیا سے رجوع ہوئے اور کہا کہ وہ ایوان میں سبھی سوالات کے جواب دینے تیار ہیں اور اپوزیشن کو مباحث کیلئے تیار ہونا چاہئے ۔ سارے سشن کے دوران ایوان سے غیر حاضر رہتے ہوئے اختتام سے ایک دن قبل اس طرح کا بیان دینا وزیر داخلہ کو ذیب نہیںدیتا ۔ ان کے غیر حاضر رہنے سے ان کی لاپرواہی کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ایوان کا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے ۔ اس بار سارا مانسون سشن ہی ہنگاموں کی نذر ہوگیا اور جہاں تک مرکزی حکومت کا تعلق ہے تو وہ اس کیلئے خود کو بری الذمہ ہرگز قرار نہیں دے سکتی ۔