میڈرڈ ۔6 اگست (ایجنسیز) پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف آٹھ وکٹوں سے جیت درج کر کے نہ صرف سیریز میں شکست سے خود کو بچا لیا بلکہ ہوم گراؤنڈ سے باہر ٹیسٹ میچ جیتنے کا طویل انتظار بھی ختم کر دیا۔ پہلا میچ ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم نے زبردست واپسی کی اور دوسرا میچ جیت کر دو میچوں کی یہ سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ یہ گذشتہ تین برسوں میں ہوم گراؤنڈ سے باہر پاکستان کی پہلی ٹیسٹ جیت ہے۔پاکستان نے اس سے قبل آخری بار سال 2023 میں بابر اعظم کی کپتانی میں سری لنکا کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔ اس جیت کے بعد سے پاکستان نے کئی بار اپنے کپتان بدلے ، یہاں تک کہ بابر اعظم خود بھی دو بار کپتانی سے دستبردار ہوئے ، لیکن کوئی بھی حکمت عملی انہیں ملک سے باہر جیت دلانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلی اننگز میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 344 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ جسٹن گریوز (73) اور روسٹن چیس (70) نے نصف سنچریاں اسکور کر کے ٹیم کو ایک بہتر مجموعے تک پہنچایا۔ پاکستان کی طرف سے ساجد خان سب سے کامیاب باؤلر رہے ، جنہوں نے چار وکٹیں حاصل کیں۔تاہم، پاکستان نے جواب میں 387 رنز بنا کر پہلی اننگز میں 43 رنز کی فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ عبداللہ شفیق نے 160 رنز کی ناقابلِ شکست اور شاندار اننگز کھیلی جب کہ بابر اعظم (88) اور اذان اویس (55) نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔ جومل واریکن نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ وکٹیں حاصل کیں۔پاکستانی باؤلرز نے دوسری اننگز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم کو صرف 117 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ ویسٹ انڈیز کے چھ بلے باز دہائی کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکے جب کہ پانچ کھلاڑی ہی ڈبل فگرز میں داخل ہو پائے۔ علی عثمان اور ساجد خان نے چار چار وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔