ڈونالڈ ٹرمپ کی بوکھلاہٹ

   

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیںگے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
جیسے جیسے مشرق وسطی کی جنگ طوالت اختیار کرتی جا رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ بوکھلاہٹ ان کے بیانات اور ان کے لب ولہجہ سے واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے ۔ ٹرمپ جس طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور جس طرح سے متضاد بیان بازی کر رہے ہیں اس سے ان کی دماغی حالت کا پتہ چلتا ہے ۔ اس کے علاوہ جو جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں وہ انتہائی غیر مہذب زبان ہے اور ان کی ذہنی بوکھلاہٹ اس سے بھی واضح ہونے لگی ہے ۔ ٹرمپ نے اسرائیل کے جھانسہ میں آکر یہ سمجھ لیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ چند دن میں جیت لی جائے گی ۔ ایران میں سب کچھ توقعات کے مطابق ہوگا ۔ ایران میں اعلی قیادت کو ختم کرنے کے بعد امریکہ اپنی من مانی کرنے میں کامیاب ہوگا ۔ اسرائیل کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاسکے گا ۔ امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت قائم کردی جائے گی ۔ خطہ میںاسرائیل کا بول بالا کردیا جائیگا ۔ گریٹر اسرائیل کے عزائم کی تکمیل کی سمت پیشرفت ہوسکے گی اور امریکہ ساری دنیا میں اپنی غنڈہ گردی پورے زور و شور کے ساتھ جاری رکھ پائے گا ۔ ایران کے خلاف جنگ کو شروع ہوئے تقریبا 40 دن ہونے والے ہیں اس کے باوجود امریکہ اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کرپایا ہے ۔ اس کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ساری دنیا میںامریکہ کی سوپر پاور کی امیج متاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔ اس کے ناٹو کے حلیف ممالک بھی اس جنگ میںساتھ دینے کیلئے تیار نہیں ہوئے ہیں۔ ناٹو کو بھی ٹرمپ نے دھمکانے کی کوشش کی تھی ۔ ان کی تذلیل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا اور انہیں پچکارنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ اس کے باوجود وہ ناٹو ممالک کو جنگ کا حصہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوپائے تھے ۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک بھی حملوں کا سامنا تو کر رہے ہیں لیکن وہ بھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ اسرائیل اپنی ٹکنالوجی کے زعم میں مبتلا تھا تاہم اسے بھی ان ہی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اس نے غزہ میں پیدا کردئے تھے ۔ یہ صورتحال ٹرمپ کیلئے انتہائی غیر متوقع رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اپنا ذہنی توازن کھونے لگے ہیں اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔
ایران کے خلاف ہو یا پھر ناٹو کے حلیف ممالک کے خلاف ہو یا پھر کسی اور کے خلاف ٹرمپ جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں وہ ان کے ذہنی دیوالیہ پن کو ظاہر کر رہی ہے ۔ دنیا بھر میںسوپر پاور کہلانے والے ملک امریکہ کے صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کی زبان انتہائی غیر شائستہ اور نامناسب ہے ۔ وہ ساری دنیا میں اپنے فرمان پر عمل کروانا چاہتے ہیں۔ تاہم خود ناٹو کے حلیف ممالک بھی اب ٹرمپ کی ہر بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ وہ ٹرمپ کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیںہوئے ہیںاور نہ ہی ان ممالک نے ایران کے خلاف فضائی حملوں میںکسی طرح کی مدد فراہم کی ہے ۔ اسی طرح جہاں تک ایران کا سوال ہے تو ایران تو ٹرمپ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہے ۔ بھلے ہی ایران میں نقصانات ہو رہے ہیںتاہم ایران ظلم کے آگے جھکنے کو ہرگز تیار نہیں ہے ۔ ٹرمپ اور ان کے حواریوں کی جانب سے ایران کو جنگ بندی کی پیشکش بھی کی گئی تھی ۔ ایران نے اس کو راست قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ یا ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ جو کچھ بھی تیقنات دئے جائیں گے وہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے ہونے چاہئیں ۔ اس کے علاوہ جنگ بندی کیلئے شرائط امریکہ کی نہیںہوسکتیں۔ ایران اپنی شرائط پیش کرے گا اور ان کو تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر جنگ بندی ممکن ہوسکتی ہے ۔ یہ صورتحال بھی ٹرمپ کیلئے قابل قبول نہیں تھی اور اس کی وجہ سے بھی وہ ذہنی طور پر شدید دباو کا شکار ہونے لگے ہیں۔
دنیا بھر میںٹرمپ کی امیج بھی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے ۔ خودد امریکہ میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر اترکر ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ ہی لاحق نہیں تھا اور ٹرمپ نے اسرائیل کی جنگ کو امریکہ کی جنگ کے طور پر اختیار کرلیا ہے ۔ سارے حالات ٹرمپ کے خلاف ہیں اور اس صورتحال کو قبول کرنے کیلئے ٹرمپ تیار نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ذہنی طور پر دیوالیہ ہونے جیسے بیانات دے رہے ہیں۔ ان کی زبان میںشائستگی ختم ہوگئی ہے اور وہ پاگل پن پر اتر آئے ہیں۔ ٹرمپ کو اپنے رویہ اور اپنی ترجیحات میں تبدیلی کرنی چاہئے ۔ ایک شخص کے پاگل پن کی وجہ سے ساری دنیا کو مشکلات کا شکار نہیں کیا جانا چاہئے ۔