کریم نگر میں بی جے پی کارکنوں کی غنڈہ گردی لا اینڈ آرڈر کے لیے کھلا چیلنج

   

بی آر ایس ایم ایل اے کیمپ آفس پر حملہ ، دونوں ارکان اسمبلی کی گاڑیوں کو نقصان ، پولیس کا لاٹھی چارج
حیدرآباد ۔ 7 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : مغربی بنگال اور آسام کے انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی کارکنوں کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے ، مخالفین کے خلاف تشدد کے واقعات میں ملوث ہورہے ، یہاں تک کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی جارہی ہے ۔ اس طرح کے واقعات اور تشدد اب تلنگانہ تک پہونچ گئے ہیں ۔ کٹرہندو وادی مرکزی مملکتی وزیر بنڈی سنجے کے انتخابی حلقے کریم نگر میں واقع کریم نگر میونسپل کارپوریشن پر بی جے پی نے پہلی مرتبہ قبضہ کیا ہے ۔ جس کے بعد بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ہر مسئلہ کو متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔ اس معاملے میں مرکزی مملکتی وزیر بھی ملوث ہیں ۔ آج بی آر ایس کے رکن اسمبلی کوشک ریڈی نے کریم نگر کے مقامی بی آر ایس رکن اسمبلی گنگولہ کملاکر کے سرکاری ایم ایل اے کیمپ آفس پر ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے مرکزی مملکتی وزیر بنڈی سنجے کی جانب سے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کے خلاف منشیات استعمال کرنے الزامات عائد کرتے ہوئے دیگر امور پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ پی کوشک ریڈی نے بھی اس کا جواب دیتے ہوئے مرکزی مملکتی وزیر پر تنقید کی اور ان پر مبینہ طور پر گٹکھا میں منشیات کا استعمال کرنے سے سر کے بال غائب ہوجانے ( گنجا ) ہونے کا الزام عائد کیا ۔ جس پر بی جے پی کارکن برہم ہوگئے انہوں نے ایم ایل اے کیمپ آفس لاٹھیوں کے ساتھ پہونچکر ہنگامہ آرائی کی ۔ کوشک ریڈی اور جی کملاکر کے خلاف نعرے بازی کی ۔ دونوں بی ار ایس کے ارکان اسمبلی کی کاروں کو نقصان پہونچایا ۔ یہاں تک کہ کیمپ آفس کے شیشے توڑ دئیے ۔ پولیس فوری وہاں پہونچ گئی اور بی جے پی کے احتجاجی مظاہرین کو سمجھانے اور پیچھے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ لیکن جب حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو پولیس کو مجبوراً لاٹھی چارج کرنا پڑا جس میں بی جے پی کے چند کارکن زخمی ہوئے ۔ اس پر تشدد واقعات کی ویڈیوز سوشیل میڈیا میں تیزی سے پھیل گئی جس پر عوام کی متضاد رائے منظر عام پر آرہی ہے ۔ مگر کریم نگر جیسے پرامن شہر میں اس طرح کے ننگے ناچنے پولیس اور انتظامیہ کے لیے بڑے چیلنجس کھڑے کردئیے ہیں ۔۔ 2/m/b