کمبھ میلے کا 0.1 فیصد بجٹ بھی 125 اسکولس بچاسکتا ہے

,

   

سپریم کورٹ جج ‘ جسٹس پرسنا ورالے کا خطاب ۔ شعبہ تعلیم کی حالت پرا ظہار افسوس
ممبئی 24 اگسٹ ( ایجنسیز ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس پرسنا بی ورالے نے تعلیم کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیم کا بجٹ کم ہوتا جا رہا ہے اور مراٹھی اسکولس بند ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناسک کمبھ پر جتنی کثیر رقومات خرچ کی گئی ہیں ان کا محض 0.1 فیصد بھی تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو 100 تا 125 مراٹھی اسکولس کو بند ہونے سے بچایا جاسکتا تھا ۔ مہاراشٹرا کے دھولے ضلع کے ہائی اسکل میں اسمارٹ کلاسیس کا افتتاح انجام دیتے ہوئے جسٹس ورالے نے کہا کہ ناسک کمبھ کا محض 0.1 فیصد حصہ بھی تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو 100 تا 125 مراٹھی اسکولس کو بند ہونے سے بچایا جاسکتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کمبھ میلے کیلئے 32,000 کروڑ سے 34,000 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ اس کے علاوہ 11 ہزار کروڑ روپئے راہداری کی تعمیر پر خرچ کئے گئے ۔ ان رقومات کا محض 0.1 فیصد بھی تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو اسکولس کو بند ہونے سے بچایا جاسکتا تھا ۔جسٹس ورالے نے کہا کہ انہوں نے خود اپنی دسویں تک کی تعلیم ضلع پریشد مراٹھی میڈیم اسکول سے پوری کی ہے اور علاقائی زبان میں تعلیم کبھی ان کے کیرئیر میں رکاوٹ نہیں بنی ہے ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹس ورالے نے کہا کہ انہوں نے وہی کہا جو ان کے دل میں تھا ۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ بچوں کو اسکولس میں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ ابتدائی تعلیم اور نگہداشت صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔