آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کی جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں: عمر عبداللہ

   

سری نگر: سال 1947میں جموں وکشمیر کو جو خصوصی درجہ دیا گیا تھا اُس کے لئے کسی وقت کا تعین نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ درج تھا کہ جب تک جموں وکشمیر بھارت کیساتھ رہے گا اسے یہ خصوصی درجہ حاصل رہے گا۔ لیکن یہ خصوصی درجہ ہم سے غیر قانونی، غیر جمہوری اور غیر آئینی طور پر چھینا گیا اور ہم نے 5اگست2019کے فیصلہ کو ہمیشہ غلط قرار دیا ہے اور ہم اپنا خصوصی درجہ واپس حاصل کرنے کیلئے لڑ رہے لیکن بہت سے ایسے سیاستدان ہیں جو لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی میدان سے رفوچکر ہوگئے ہیں۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج جنوبی کشمیر کے دورے کے تیسرے دن اننت ناگ میں پارٹی ورکروں کے اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ شکر ہے کہ کل ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے دفعہ370سے متعلق کیس کی سماعت کیلئے تاریخ دینے کا اشارہ دیاہے اور ہمیں چاہتے ہیں جلد سے جلد سماعت شروع ہو اور ہم پُرامید ہے کہ ہمیں عدالت سے انصاف ملے گا اور جموں وکشمیر کے عوام کو اپنے حقوق واپس حاصل ہونگے کیونکہ ہمارا کیس مضبوط سے مضبوط ہے ۔