10 ممالک کا زیادہ تر انحصار، چین، ساؤتھ کوریا، پاکستان اور ہندوستان شامل
حیدرآباد 7 جولائی (سیاست نیوز) مغربی ایشیاء میں جاری جنگی بحران میں آبنائے ہرمز تنازعہ کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور اُس کی مرضی کے بغیر کسی بھی ملک کا بحری جہاز وہاں سے گزرنے کی ہمت نہیں کرسکا۔ آبنائے ہرمز پر تحدیدات کے خاتمہ کے لئے امریکہ نے جوابی ناکہ بندی کا اعلان کیا لیکن ایران کی تحدیدات کے آگے امریکی ناکہ بندی ٹک نہیں سکی۔ آبنائے ہرمز کئی ممالک کے لئے خام تیل کی تجارت کا اہم مرکز ہے۔ اگرچہ سیز فائر کے تحت آبنائے ہرمز پر تحدیدات میں کسی قدر نرمی کی گئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور جس دن وہ امن معاہدہ کی مخالفت کریں گے اُس دن آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی تجارت میں کئی ممالک کا آبنائے ہرمز پر انحصار ہے۔ دنیا کے ایسے 10 ممالک کی نشاندہی کی گئی جو خام تیل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے لئے آبنائے ہرمز کا استعمال کرتے ہیں۔ جاپان اُن ممالک میں سرفہرست ہے جس کا تمام تر کاروبار آبنائے ہرمز کے ذریعہ ہی چلتا ہے۔ سروے کے مطابق آبنائے ہرمز پر جاپان کا انحصار 73 تا 90 فیصد ہے جبکہ ساؤتھ کوریا 70 تا 80 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ گھریلو تیل کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے آبنائے ہرمز واحد راستہ ہے۔ خام تیل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں آبنائے ہرمز پر ہندوستان کا انحصار 42 تا 55 فیصد ہے۔ آبنائے ہرمز پر کسی بھی طرح کی کشیدگی کی صورت میں جن ممالک میں پٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں اُن میں تائیوان، پاکستان، چین، تھائی لینڈ، سنگاپور، ملائیشیا اور فلپائن شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہندوستان میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا جس کی اہم وجہ آبنائے ہرمز پر کشیدگی ہے۔V/1/a/b