آر ٹی سی ہڑتال میں مزید شدت، عوام کی مشکلات میں اضافہ

   

نظام آباد میں ملازمین کا احتجاج و دھرنا، حکومت مسائل حل کرنے میں ناکام، جے اے سی قائدین کا الزام
نظام آباد23 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلنگانہ آر ٹی سی جے اے سی کی جانب سے جاری ہڑتال دوسرے دن مزید شدت اختیار کر گئی جس کے باعث ضلع بھر کے مختلف ڈپوٹس میں بس خدمات بری طرح متاثر ہوئیں، جبکہ بعض مقامات پر محدود پیمانے پر سروس جاری رکھنے کے لیے کرایہ کی بسوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، جس سے محکمہ میں مستقل وسائل کی کمی واضح طور پر سامنے آ رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق ہڑتال کے دوران علی الصبح ہی بڑی تعداد میں آر ٹی سی کارکن ڈپوٹس کے سامنے جمع ہو گئے اور احتجاجی دھرنے دیے، نظام آباد کے ڈپو نمبر 2 میں خواتین کنڈکٹرز نے بسوں کی روانگی روکنے کے لیے دھرنا دیتے ہوئے راستہ بند کر دیا جس کے نتیجہ میں آمد و رفت شدید متاثر ہوئی، جے اے سی قائدین نے حکومت اور انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ مذاکرات کے نام پر ملازمین اور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور مسائل کے حل میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں، کارکنوں کے اہم مطالبات میں آر ٹی سی ملازمین کا سرکاری نظام میں انضمام، سال 2021 کی تنخواہ ترمیم کو کم از کم 30 فیصد اضافہ کے ساتھ نافذ کرنا، حیدرآباد میں پرائیویٹ الیکٹرک بسوں کی منسوخی، تبادلوں کے احکامات کی فوری واپسی اور مزدور تنظیموں کی بحالی کے ساتھ تسلیم شدہ یونین کے انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔دوسری جانب آرمور ڈپو سے محدود پیمانے پر خدمات جاری رہیں جہاں دوپہر 2:30 بجے تک 36 بسیں روانہ کی گئیں جن میں 7 آر ٹی سی اور 29 کرایہ کی بسیں شامل ہیں، عملہ کی حاضری میں 54 افراد رپورٹ ہوئے جن میں کوئی مستقل عملہ شامل نہیں ہیں جبکہ 18 آؤٹ سورسنگ اور 29 کرایہ کی بسوں کا عملہ موجود رہے، 8 عارضی ڈرائیورز کی تقرری بھی کی گئی، اسی طرح ضلع کے دیگر ڈپوٹس میں بھی کرایہ کی بسوں پر انحصار کا رجحان نمایاں رہا، بودھن ڈپو سے دوپہر 2 بجے تک 41 بسیں روانہ ہوئیں جن میں 12 آر ٹی سی اور 29 کرایہ کی بسیں شامل ہیں جبکہ
42 عملہ نے رپورٹ کیا جن میں 5 مستقل، 8 آؤٹ سورسنگ اور 29 کرایہ کی بسوں کا عملہ شامل ہیں اور 10 عارضی عملہ بھی مقرر کیا گیا، نظام آباد ڈپو نمبر 2 سے 78 بسیں روانہ کی گئیں جو مکمل طور پر کرایہ کی تھیں اور وہاں تمام 78 عملہ بھی انہی بسوں سے وابستہ رہا جبکہ مستقل یا آؤٹ سورسنگ عملہ کی کوئی موجودگی درج نہیں کی گئی، اس مجموعی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہڑتال کے باعث محکمہ میں کرایہ کی بسوں پر انحصار بڑھ گیا ہے اور مستقل عملہ کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہی ہے، عوام کو درپیش مشکلات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ حکام کی جانب سے متبادل انتظامات کی کوششیں جاری ہیں اور حکومت کی جانب سے صورتحال پر نظریں مرکوز ہیں۔