اترپردیش میں آوارہ گائیوں کا مسئلہ حال کرنے کے لئے یوگی حکومت کا ’’ گائے ٹیکس‘‘ 

,

   

گائے شیلٹرس نے اترپردیش حکومت نے مجالس مقامی کے لئے ایک سوکروڑ کی اجرائی عمل میں لائی ہے۔

لکھنو۔ریاست اترپردیش میں گائیوں کے لئے حکومت کی جانب سے بنائے گئے شیلٹرس ہیں مگر عوام کو ’’ گائے ویلفیر‘‘ کے نام پر اکسائز اور دیگر محکموں کے ذریعہ کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

آوارہ گائیوں کی وجہہ سے مغربی اترپردیش میں احتجاج کے ایک ہفتہ بعد چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کی قیادت میں منعقدہ ایک کابینہ اجلاس میں اکسائز اشیاء پر 0.5فیصد ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ لیاگیا جس میں الکوہل بھی شامل رہے گا۔

اسی طرح کا ٹیکس حکومتی اداروں کی جانب سے جمع کئے جانے والے ٹول پر بھی عائد ہوگا‘ مثال کے طور پر اگرہ لکھنو ایکسپریس وے روڈ کی تعمیر اور دیکھ بھال ریاستی حکومت کی ایجنسیاں کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے ریاست بھر میں منڈی پریش کے ایک فیصد ٹیکس کو دوگنا کردیا ہے ۔ مذکورہ ٹیکس کے ذریعہ حکومت کے کتنے رقم اکٹھا کرنے کا تخمینہ ہے اس کے متعلق ابھی تک کچھ نہیں کہاگیا ہے مگر حکومت کے ذریعہ کا کہنا ہے کہ یہ اترپردیش کے گاؤں میںآوارہ گھومنے والی گائیوں کے مسلئے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

گائے شیلٹرس نے اترپردیش حکومت نے مجالس مقامی کے لئے ایک سوکروڑ کی اجرائی عمل میں لائی ہے۔پچھلے ہفتہ ہے کہ مغربی اترپردیش کے دوگاؤں جو علی گڑھ اور فیروز آبا د ضلع کہ ہیں میں آوارہ گھومنے والے گائیوں کو مقامی لوگوں نے اسکول میں بند کردیاتھا‘ اور اس وقت اسکول چلنے دینے سے انکا ر کردیاجب تک انتظامیہ مذکورہ جانوروں کے متعلق کچھ موثر اقدامات نہیں اٹھاتی۔

علی گڑھ میں ایک اور افسوسناک اقدام کے تحت پولیس اسٹیشنوں میں آوارہ گھومنے والے گائیوں کا رکھنے کا کام اس وقت شروع کردیاگیا جب ضلع کے پولیس چیف نے ایسا کرنے کی ہدایت جاری کی۔

علی گڑھ پولیس چیف اے کے سہانی نے کہاکہ ’’ مسلئے کو حل کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور پورے علی گڑھ میں پہلے ہی کئی شیلٹرس قائم کردئے گئے ہیں۔ مگر لاء اینڈ ارڈر پیدا کیاجارہا ہے۔

لہذا ہمارے ساتھی پولیس افیسر سے کہاگیا ہے کہ وہ ہر پولیس اسٹیشن میں گائیوں کی دیکھ بھال کاکام شروع کیاجائے ‘ لہذا ہم نے اس کی شروعات کی ہے‘‘۔ جب سے یوپی میںیوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت نے جائزہ لیاہے تب سے اس بات کا دعوی کیاجارہا ہے کہ غیر قانونی مسلخ بند کردئے گئے ہیں اور گاؤ تسکری میں بھاری گرواٹ ائی ہے۔ وہیں اس کے متعلق اعداد شماراب تک پیش نہیں کئے گئے ہیں