احتجاج سے روکنے کیلئے کانگریس قائدین مکانات پر محروس

   

محمد علی شبیر اور ملو روی کا احتجاج، اہم قائدین کی قیامگاہوں پر پولیس تعینات
حیدرآباد ۔14 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کے حکمت عملی ساز کے سنیل کے دفاتر پر پولیس کارروائی کے خلاف ریاست گیر احتجاج کی اپیل پر پولیس نے کل رات سے چوکسی اختیار کرتے ہوئے سینئر قائدین کو مکانات پر محروس رکھا۔ کانگریس نے ہر منڈل میں احتجاج کا اعلان کیا تھا ۔ سوشیل میڈیا میں قابل اعتراض پوسٹ کی شکایت پر سائبر کرائم پولیس نے سنیل کے دفتر سے کمپیوٹرس کو ضبط کرلیا۔ پولیس نے احتجاج کو روکنے کیلئے قائدین کو مکانات پر محروس رکھا اور شام تک انہیں گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی کے سینئر قائدین محمد علی شبیر ، ڈاکٹر ملو روی ، انجن کمار یادو، انیل کمار یادو کے علاوہ شہر اور اضلاع میں کئی قائدین کو پولیس نے مکانات پر محروس رکھا اور احتجاج میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی۔ کل رات دیر گئے کانگریس قائدین کے مکانات پر پولیس کو تعینات کردیا گیا۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے پولیس کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سوشیل میڈیا پوسٹ کے بارے میں شکایت موصول ہوئی ہے تو پولیس کو چاہئے تھا کہ وہ نوٹس جاری کرتی۔ کسی نوٹس کے بغیر سادہ لباس میں پولیس نے اچانک دھاوا کیا اور کمپیوٹرس کو ضبط کرلیا۔ خاتون ملازمین کو برا بھلا کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اشارہ پر یہ کارروائی کی گئی ہے اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ اس کارروائی کیلئے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اپوزیشن کو کچلنے کی کوششوں کے خلاف احتجاج جاری رکھے گی۔ ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ تلنگانہ میں ڈکٹیٹرشپ کی طرح کے سی آر حکومت کام کر رہی ہے۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین محمد فیروز خاں، محمد راشد خاں اور دوسروں کو بھی پولیس نے مکانات پر محروس رکھا۔ ر